فیس بک کے استعمال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #273Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

فیس بک استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ اس میں مندرجہ ذیل چیزیں ہوتی ہیں:
٭ مرد و عورت کا آپس میں بات چیت کرنا ۔
٭ ہر قسم کی تصویریں ہوتی ہیں ۔
٭ اس میں ویڈیو اور موسیقی بھی ہوتی ہے ۔
٭ بعض مقامات میں لوگ جمع ہو کر اسلام کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں کہ کیا اسلام قبول کرنے کے لائق ہے؟
ان تمام خرابیوں کے ساتھ ۲۰۱۰؁ء میں اس میں ایک صفحہ بنایا تھا جس میں آپ ﷺ کی تصویر بنانے کی لوگوں کو دعوت دی گئی تھی (نعوذ باللہ) جس کی وجہ سے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک نے اس کو ممنوع قرار دیا تھا اور اس کی وجہ سے فیس بک والوں نے اس صفحہ کو نکال دیا۔ بینوا توجروا ۔

Answer

فیس بک کے استعمال کے مختلف طریقے ہیں:
(۱) فیس بک بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت استعمال کرے مثلاً مجرموں کی شناخت اور دیگر مواقع ضرورت میں استعمال کرے تو اس کی گنجائش ہے ۔ جب کہ ممنوعات سے پرہیز کرے ۔ مثلاً موسیقی اور غیر محرم کی تصویریں وغیرہ کے دیکھنے سے اجتناب ضروری ہے ۔
(۲) دوسرا یہ کہ ناجائز تعلقات کے لیے استعمال کیا جائے یا ناجائز تعلقات کا خطرہ ہو یا کسی غیر محرم کی تصویر سے لذت حاصل کرنے کے لیے ہو اس طرح کا استعمال ممنوع اور ناجائز ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے
غلط تعلقات کا خدشہ ہو پھر بھی ممنوع ہے کیوں کہ حدیث شریف کا مضمون ہے کہ جو سرکاری چراگاہ کے ارد گرد اپنے مویشیوں کو چرائے گا تو قوی امکان ہے کہ جانور سرکاری چراگاہ میں داخل ہو جائیں اور جرمانہ لگ جائے یا مویشی ضبط ہو جائیں ۔ نیز جو کام ناجائز مقصد کا وسیلہ بنتا ہو تو اس سے بچنا ضروری ہوتا ہے ۔
جب کہ فیس بک موسیقی اور ہر قسم کی تصویریں اور اسلام کے بارے میں بحث و مباحثہ و اعتراضات وغیرہ چیزوں پر مشتمل ہے تو اس کے استعمال سے اجتناب کرنا ضروری ہے نیز رسول اللہ ﷺ کی تصویر بنانے کی جسارت کرنے سے فیس بک والوں کی نیت کا پتا بھی چل گیا کہ وہ اسلامی عقائد اور اسلامی نظریات کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں ۔
(۳) تیسرا یہ کہ اس کو ممنوع اور ناجائز کام کے لیے استعمال نہیں کرتا اور ممنوع کا وسیلہ بھی نہیں بنتا جیسے کوئی شخص اپنی لڑکی، بہن یا والدہ کا چہرہ فیس بک میں دیکھے یا دوست آپس میں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھے اور بے ریش لڑکے نہ ہوں تو اس صورت میں اس کا استعمال ناجائز تو نہیں ہوگا ۔ البتہ اس کا استعمال مناسب نہیں کیوں کہ عادت پڑنے پر حدود سے تجاوز کرنے کا کافی حد تک امکان موجود ہے ۔
یہ اس فیس بک کا حکم ہے جس میں موسیقی اور تصویر ہو اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو پھر اس کا استعمال درست ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.