تصویر والی کتابوں کے استعمال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #271Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

اسکولوں اور مدارس میں تصویر والی کتابوں کا کیا حکم ہے؟ جب کہ کسی چیز کا سمجھنا اس سے آسان ہو جاتا ہے ۔ تو کیا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ تصویر بنانا ناجائز ہے البتہ اس کے استعمال میں کچھ تفصیل ہے کہ محل احترام اور تعظیم میں ناجائز ہے اور محل اہانت میں جائز ہے اور کتابوں میں ہونا محل احترام ہے بنا بریں بلا ضرورت اس کے استعمال سے بچنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو مفتی شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
تصویر کے گھر میں رکھنے اور استعمال کرنے میں کسی قدر تفصیل ہے، جو تصویریں اس قدر چھوٹی ہوں کہ اگر وہ زمین پر رکھی ہوں اور کوئی متوسط بینائی والا آدمی کھڑا ہو کر دیکھے تو تصویر کے اعضاء کی تفصیل دکھائی نہ دے، ایسی تصویر کا گھر میں رکھنا اور استعمال کرنا جائز ہے، اگر چہ بنانا اس کا بھی ناجائز ہے، جو تصاویر کسی ایسی چیز یا ایسی جگہ میں بنی ہوئی ہوں کہ عادۃً پامال اور ذلیل و حقیر سمجھی جاتی ہیں، مثلاً: پامال فرش یا بسترہ میں یا بیٹھنے کے گدے تکیے و کرسی وغیرہ میں یا جوتے کے تلے میں یا برتنوں کے نیچے تلی میں ہو تو ان کا گھر میں رکھنا اور استعمال کرنا جائز ہے، اگر چہ بنانا اس کا بھی ناجائز ہے لیکن جو فرش محل اہانت میں نہ ہو مثلاً: مصلی وغیرہ تو اس میں تصویر رکھنا جائز نہیں اسی طرح اگر مصوَّر تکیے بڑے بڑے ہوں جن پر بنی ہوئی تصویر کھڑی نظر آئے تو ان کا استعمال بھی ناجائز ہے ۔
مسئلہ: برتنوں میں جو تصویریں تلے کے سوا کسی جگہ ہوں وہ پامال و ممتہن کے حکم میں نہیں، اس لیے اگر وہ بڑی تصویریں ہوں تو ان برتنوں کا استعمال بھی جائز نہیں،
لما في بلوغ القصد والمرام: الصور في الأواني ليست بممتهنة. (ص
۱۷
.
۱۸
). (
تصویر کے شرعی احکام، از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله، ص۸۳ ۔ ۸۵) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ کتابوں کی تصویریں مقصود ہوتی ہیں اور واضح ہوتی ہیں لہذا ایسی کتابوں کے استعمال کرنے سے حتی الامکان بچنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.