بچیوں کے مصوَّر کھلونے کا حکم:
Question
بچیاں جن کھلونوں کے ساتھ کھیلتی ہیں وہ مورتی کی شکل میں ہو تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ نیز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کھلونے کی کیا حقیقت ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مصور کھلونے سے کھیلنا اور گھر میں رکھنا جب کہ صورت بالکل واضح نظر آ رہی ہو جائز اور درست نہیں ہے احادیث میں تصویر گھر میں رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لیکن وہ کھلونے جو کپڑے سے بنائے جائیں ان میں چہرہ صاف نظر نہیں آتا، لہذا ایسے کھلونے سے کھیلنے کی اجازت ہے ۔
حضرت مفتی شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
بچوں کی گڑیاں اور چھوٹے کھلونے اگر مصور ہوں تو ان کی خرید و فروخت اور بچوں کا کھیلنا ان سے جائز ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے واقعہ مذکورہ حدیث نمبر ۲٤ سے ثابت ہو چکا ہے، اس میں فقہاء کے اختلاف کی تفصیل اوپر آ چکی ہے، حنفیہ کی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے اس کی اجازت دی گئی ہے عام نہیں، اور اکثر حضرات کے نزدیک ان کا بھی عدمِ جواز ہی راجح ہے ۔
في متفرقات البيوع من الدر المختار في آخر حظر المجتبى عن أبي يوسف يجوز بيع اللعبة وأن يلعب بها الصبيان انتهى، قال الشامي: ونسبته إلى أبي يوسف لا تدل على أن الإمام يخالفه لاحتمال أن لا يكون في المسألة قول. (فتاوى الشامي: ۵/۲۲٦، ط: سعيد، ومثله في مكروهات الصلاة ج: ۱/٦۵۰، سعيد).
امام نووی رحمه الله نے شرح مسلم میں حضرت عائشہ رضی الله عنه کی حدیث کی تشریح میں لکھا ہے:
المراد هذه اللعب المسماة بالبنات التي تلعب بها الجواري الصغار ومعناه التنبيه على صغر سنها قال القاضي: وفيه جواز اتخاذ اللعب وإباحة لعب الجواري بهن وقد جاء أنه عليه الصلاة والسلام رأي ذلك ولم ينكره، قالوا: وسببه تدريبهن لتربية الأولاد وإصلاح شأنهن وبيوتهن. (شرح صحيح مسلم: ۹/۲۰۸، باب جواز تزويج الأب البكر الصغيرة، ط: بيروت).
مرقات شرح مشکوۃ میں ہے:
ويحتمل أن يكون مخصوصاً من أحاديث النهي من اتخاذ الصور لما ذكر من المصلحة ويحتمل أن يكون قضية عائشة رضي الله عنه في أول الهجرة قبل تحريم الصور. (المرقاة: ٦/۲۰٦، ملتان).
ان نقول کے بعد حضرت مفتی شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی گڑیوں کے معاملہ میں فقہاء کے چار اقوال ہیں؛ ایک یہ کہ وہ بھی عام تصاویر کی طرح حرام ہیں، اور صدیقہ عائشہ رضی الله عنه کی روایت تصاویر کی حرمت سے پہلے زمانہ کے متعلق ہے، جو بعد میں منسوخ ہو گئی، زیادہ تر محدثین نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔
اور ایک قول اس کے مقابل قاضی عیاض رحمه الله کا ہے کہ اسی حدیث کی رو سے بچوں کی گڑیاں حرمتِ تصویر سے مستثنی کر دی گئی ہیں، وہ جائز ہیں ۔
تیسرا قول یہ ہے کہ نابالغ بچیوں کے لیے اجازت ہے، عام اجازت نہیں ہے، حنفیہ کا مسلک مذکورہ عبارتِ در مختار سے یہی معلوم ہوتا ہے، یہ حضرت صدیقہ عائشہ رضی الله عنه کے اس قصہ کو بلوغ سے پہلے کا قصہ قرار دیتے ہیں کیوں کہ صدیقہ عائشہ رضی الله عنه آنحضرت ﷺ کے نکاح میں چھ، سات سال کی عمر میں آئی ہیں، جو وقت بلوغ کا نہیں تھا اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہو سکتا ہے ۔
چوتھا قول یہ ہے کہ صدیقہ عائشہ رضی الله عنه کی روایت میں جن گڑیوں کا ذکر ہے وہ مکمل تصاویر تھی ہی نہیں، اس لیے حرمتِ تصاویر کی روایات سے اس کا کوئی تعارض نہیں، لیکن پہلے اور تیسرے قول پر ابو داود کی روایت جو ابو مسلم کے طریق سے منقول ہے اس میں اس واقعہ کی تاریخ غزوۂ خیبر یا غزوۂ تبوک سے واپسی بتلائی ہے جو ۷ ھ یا ۹ ھ میں ہیں، اس وقت تک تصاویر کی حرمت کے احکام نہ ہونا یا حضرت صدیقہ عائشہ رضی الله عنه کا نابالغ ہونا دونوں چیزیں نہایت بعید ہیں ۔
لیکن آگے چل کر یہ ثابت کیا ہے کہ غزوۂ خیبر یا تبوک کا ذکر صحیحین اور مسند احمد وغیرہ کی روایت میں نہیں صرف ابو داود کے ایک طریق میں ہے تو بظاہر کسی راوی کو مغالطہ پیش آیا ہے ۔ پھر آگے فرماتے ہیں
ان سب قرائن قویہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ صدیقہ عائشہ رضی الله عنه کی گڑیوں کا واقعہ بالکل ابتداءِ ہجرت کے زمانہ میں پیش آیا جب کہ تصاویر کی حرمت کے احکام نہ تھے، نیز حضرت صدیقہ رضی الله عنه صغیرۃ السن لڑکی تھیں اس لیے جن حضرات نے اس حدیث کو احادیثِ حرمت سے منسوخ قرار دیا، یا جنہوں نے اس کو صرف نابالغ لڑکیوں کی خصوصیت قرار دیا، ان کے کلام کی گنجائش بلا شبہ موجود ہے ۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ (تصویر کے شرعی احکام، از ص: ۵۱ ۔ تا۵۵و۸۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.