ڈیجیٹل کیمیرے سے تصویر کشی کا حکم:
Question
تصویر کس کو کہتے ہیں اور تصویر کشی کا کیا حکم ہے؟ نیز ڈیجیٹل کیمیرے کے ذریعہ تصویر لینے کا کیا حکم ہے؟ تفصیل اور وضاحت مطلوب ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
(۱) جاندار کی تصویر جو ہاتھوں سے بنائی جائے اس کا بنانا اور استعمال کرنا بالاتفاق ناجائز ہے ۔ احادیث سے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم". (أخرجه البخاري:، رقم: ۵۹۵۱، باب عذاب المصورين يوم القيامة ومسلم: ۲/۲۰۱).
وعن مسلم قال: كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير فرأي في صفته تماثيل فقال: سمعت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: سمعت النبي ﷺ يقول: إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون. (أخرجه البخاري، رقم: ۵۹۵۰، باب عذاب المصورين يوم القيامة، ومسلم: ۲/۲۰۱).
وعن عمارة قال: حدثنا أبو زرعة قال: دخلت مع أبي هريرة رضي الله عنه داراً بالمدينة فرأي أعلاها مصوِّراً يصور قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: ومن أظلم ممن ذهب يخلق كخلقي فليخلقوا حبة وليخلقوا ذرة. (رواه البخاري، رقم: ۵۹۵۳، باب باب نقض الصور، ومسلم: رقم: ۲۱۱۱).
عن ابن عباس رضي الله عنه عن أبي طلحة رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ: لا تدخل الملائكة بيتاً فيه كلب ولا تصاوير. (رواه البخاري، رقم: ۵۹٤۹ باب التصاوير ومسلم: ۲/۲۰۰، قديمي).
وعن عبد الله بن عباس رضي الله عنه قال: سمعت محمداً ﷺ يقول: من صور صورة في الدنيا كلف يوم القيامة أن ينفخ فيها الروح وليس بنافخ. (أخرجه البخاري، رقم: ۹٦۳، باب من صور صورة، ومسلم: ۲۱۱۰).
عن عون بن أبي جحيفة قال: رأيت أبي اشتري حجاماً فأمر بمحاجمه فكسرت فسألته عن ذلك قال: إن رسول الله ﷺ نهى عن ثمن الدم وثمن الكلب وكسب الأمة ولعن الواشمة والمستوشمة وآكل الربا وموكله ولعن المصور
۔
(أخرجه البخاري، رقم: ۲۲۳۸، باب ثمن الكلب، وكذا رقم: ۵۹٦۲، في باب من لعن المصور)
۔
وعن عبد الرحمن بن القاسم وما بالمدينة يومئذٍ أفضل منه قال: سمعت أبي قال: سمعت عائشة رضي الله تعالى عنها قدم رسول الله ﷺ من سفر وقد سترت بقرام لي على سهوة لي فيها تماثيل فلما رأه رسول الله ﷺ هتكه وقال: أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله
(أخرجه البخاري، رقم: ۵۹۵٤، باب ما وطئ من التصاوير).
وعن جابر رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ عن الصورة في البيت ونهي أن يصنع ذلك. (أخرجه الترمذي، رقم: ۱۷٤۹، وقال: حديث حسن صحيح).
وعن أبي وائل عن أبي الهياج الأسدي قال: قال لي على بن أبي طالب رضي الله عنه ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله ﷺ أن لا تدع تمثالاً إلا طمسته ولا قبراً مشرفاً إلا سويته. وفي رواية وقال: ولا صورة إلا طمستها. (رواهما مسلم، رقم: ۹٦۹، باب الامر بتسوية القبر). (وأيضا أخرجه النسائي، رقم: ۲۰۳۱).
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن أم سلمة ذكرت لرسول الله ﷺ كنيسة رأتها بأرض الحبشة يقال لها مارية فذكرت له ما رأت فيها من الصور فقال رسول الله ﷺ أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح أو الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا وصوروا تلك الصور أولئك شرار الخلق عند الله. (رواه البخاري، رقم: ٤۳٤، باب الصلاة في البيعة، ومسلم، رقم: ۵۲۸).
وعن عبد الله بن نجي الحضرمي عن أبيه عن على رضي الله عنه، في حديث طويل عن رسول الله ﷺ أنه ذكر عن جبريل عليه السلام أنه قال: إنها ثلاث لن يلج ملك ما دام فيها أبداً واحد منها كلب أو جنابة أو صورة روح. (أخرجه الامام أحمد في مسنده، رقم: ٦٤۷، وقال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف).
مذکورہ تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی روح کی تصویر بنانا رکھنا استعمال کرنا سب ممنوع اور ناجائز ہے ۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم. وهو من الكبائر، لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره، فصنعته حرام بكل حال، لان فيه مضاهاة لخلق الله تعالى
وأما اتخاذ المصور فيه صورة حيوان فإن كان معلقاً على حائط أو ثوباً ملبوساً، أو عمامة ونحو ذلك مما لا يعد ممتهناً، فهو حرام، وإن كان في بساط يداس، ومخدة ووسادة ونحوها مما يمتهن، فليس بحرام
ولا فرق في هذا كله بين ماله ظل ومالا ظل له، هذا تلخيص مذهبنا في المسالة، وبمعناه قال جماهير العلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم، وهو مذهب الثوري رحمه الله ومالك رحمه الله وأبي حنيفة رحمه الله وغيرهم. (الشرح الكامل: ۱٤/۸۱، باب تحريم تصوير صورة الحيوان، ط: بيروت). (وكذا في عمدة القاري: ۱۵/۱۲٤، باب عذاب المصورين، وفتح الباري: ۱۰/۳۸٤، ومرقاة المفاتيح: ۸/۳۲٦، باب التصاوير، والبحر الرائق: ۲/٤۸، ط: رشيديه، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲۷۳، وفتاوى الشامي: ۱/٦٤۷، سعيد).
علامہ نووی رحمه الله اور دیگر شراح اور فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ بے سایہ تصویر کا استعمال مطلقاً ممنوع نہیں ہے مقامِ تعظم اور آ کرام میں مثلاً تصویر کو احترام کے ساتھ لٹکانا، سامنے رکھنا، دیواروں پر لٹکانا، اس طرح رکھنا کہ تعظیم کا احساس ہوتا ہو، یہ سب ممنوع اور ناجائز ہے، لیکن مقامِ اہانت میں مثلاً: فرش، تکیہ وغیرہ میں ایسی تصویریں ہوں تو مضائقہ نہیں ۔
ملاحظہ ہو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنه كان لها ثوب فيه تصاوير ممدود إلى سهوة فكان النبي ﷺ يصلي إليه فقال: أخِّريه عني قالت: فأخَّرتُه فجعلته وسائد. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۰۷).
وفي رواية له عنها: قالت: فقطعناه فجعلنا منه وسادة أو وسادتين. (مسلم، رقم: ۲۱۰۷).
نوٹ: جو فرش محل اہانت میں نہ ہو مثلاً: مصلی وغیرہ تو اس میں تصویر رکھنا جائز نہیں ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (تصویر کے شرعی احکام، ص۸٤، از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله) ۔
٭ اسی طرح بہت چھوٹی تصویریں رکھنا بھی جائز ہیں، (ہاں بنانا جائز نہیں) جیسے روپے اور انگوٹھی وغیرہ میں، البتہ چھوٹی اور بڑی کی تحدید میں اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک بڑی وہ ہے جو بے تکلف پہچان میں آ جائے اور بعضوں کے نزدیک وہ جو پرندہ سے کم حجم کی ہو نیز سر کٹی بھی ممنوع نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل، لا يكره، وإن قطع الرأس فلا بأس به. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۰۷، تبيين الحقائق: ۱/۱٦٦).
وفي المحيط البرهاني: وصورة الحيوان إن كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر من بعيد لا يكره اتخاذها والصلاة إليها؛ لان هذا مما لا يعبد، وقد صح أنه كان على خاتم أبي هريرة رضي الله عنه ذبابتان، وكان خاتم أبي موسي الأشعري كركيان، وكان خاتم دانيال عليه السلام صورة الأسد. (المحيط البرهاني: ۵/۱۳٦، كتاب الاستحسان والكراهية، ط: دار إحياء التراث العربي).
(و کذا فی قاموس الفقہ: ۲/٤۷۰، و جواہر الفتاوی: ۷/۲۵۸) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جو تصویریں اس قدر چھوٹی ہوں کہ اگر وہ زمین پر رکھی ہوں اور کوئی متوسط بینائی والا آدمی کھڑا ہو کر دیکھے تو تصویر کے اعضاء کی تفصیل دکھائی نہ دے، ایسی تصویر کا گھر میں رکھنا اور استعمال کرنا جائز ہے، اگر چہ بنانا اس کا بھی ناجائز ہے، چھوٹی تصویر کی تعریف میں جو قول ہم نے نقل کیا ہے یہ زیادہ جامع ہے اور تعیین و تحدید اس طرح سہل ہو جاتی ہے ورنہ اس کے علاوہ چھوٹی کی تحدید میں اور بھی اقوال ہیں ۔ (تصویر کے شرعی احکام، ص۸۳) ۔
(۲) غیر جاندار جیسے درخت اور پھول وغیرہ کی تصویر بالاتفاق جائز ہے ہاں اس شغل میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے ہونا چاہیے ہونا چاہیے کہ آدمی اصل مقصد بھول جائے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنه إذ أتاه رجل فقال: يا ابن عباس إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس رضي الله عنه: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله ﷺ يقول: سمعته يقول: من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبداً فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه فقال: ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر كل شيء ليس فيه روح. (أخرجه البخاري، رقم: ۲۲۲۵، باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح وما يكره من ذلك).
اس حدیث کے تحت علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
ذكر ما يستفاد منه:
وفيه إباحة تصوير ما لا روح له كالشجر ونحوه وهو قول جمهور الفقهاء وأهل الحديث فإنهم استدلوا على ذلك بقول ابن عباس رضي الله عنه. (عمدة القاري: ۸/۵٤۸، باب بيع التصاوير، دار الحديث، ملتان).
وفي الفتاوى الهندية: ولا يكره تمثال غير ذي الروح كذا في النهاية. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۰۷).
(۳) آج کل کے جدید آلات سے جو تصویر لی جاتی ہے اور اس میں صاف کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بلکہ بٹن دباتے ہی تصویر بن جاتی ہے جیسے سر جھکا کر شیشہ کے سامنے آ جاتا ہے اور عکس آ جاتا ہے اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں علماء عصر کا اختلاف ہے:
ایک جماعت کہتی ہے کہ تصویر کی تعریف یہ ہے: "
تشبيه مصنوع العباد بمخلوق رب العباد"
تو زمانہ حال کی تصویر میں "
تشبيه المصنوع بالمخلوق"
نہیں ہے بلکہ حبس ظل المخلوق ہے لہذا اس پر تصویر کی تعریف صادق نہیں آتی تو اس کا بنانے والا تصویر بنانے والے کی وعید کے زمرے میں نہیں آئے گا ۔
مسلم شریف حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: "
ومن أظلم ممن ذهب يخلق خلقاً كخلقي فيلخلقوا ذرة الخ. (متفق عليه، رواه البخاري، رقم: ۵۹۵۳، باب نقض الصور، ومسلم، رقم: ۲۱۱۱، باب تحريم تصوير صورة الحيوان)،
اس حدیث میں تشبیہ کے الفاظ موجود ہیں ۔ اس سلسلہ میں چند الفاظ کی وضاحت ملاحظہ کیجیے:
(۱) صنم: وہ بت جو انسانی شکل پر بنا ہو اس کو صنم کہتے ہیں ۔ کتاب الاصنام میں ہشام ابن الکلبی سے روایت ہے؛
حدثنا الحسن بن عليل قال: حدثنا على بن الصباح قال: قال لنا أبو المنذر هشام بن محمد: إذا كان معمولاً من خشب أو ذهب أو من فضة صورة إنسان، فهو صنم، وإذا كان من حجارة فهو وثن. (كتاب الأصنام، ص ۵۳ ط: دار الكتب المصرية، القاهرة).
(۲) تمثال: جو کسی انسان و حیوان وغیرہ کے ساتھ مشابہ ہو اس کو تمثال کہتے ہیں ۔
قال ابن الجوزي في غريب الحديث: تمثال: وهو اسم للشيء المصنوع مشبهاً لصور الحيوانات. (غريب الحديث: ۲/۳٤۱). (وكذا في عمدة القاري: ۹/۲٤۲، باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر، ط: دار الحديث، ملتان، وشرح الزرقاني على الموطأ: ٤/٤٦۸، باب ما جاء في الصور، دار الكتب العلمية).
(۳) وثن: جو پتھر وغیرہ سے بنا ہوا بھاری ہو اس کو وثن کہتے ہیں ۔ (کذا فی کتاب الاصنام، کما مر) ۔
(٤) صورت: جو قائم بالغیر ہو اس کو صورت کہتے ہیں ہاں کبھی جسم قائم بذاتہ کو بھی کہتے ہیں،
﴿في أي صورة ما شاء ركبك﴾. وينظر: (التعاريف، ص ٤٦۵، دار الفكر، ولسان العرب: ٤/٤۷۳، والمغرب: ۱/٤۸٦).
(۵) نصب: جمعہ انصاب، اس نصب شدہ پتھروں کو کہتے ہیں جس کے پاس غیر اللہ کے لیے نذر شدہ جانور ذبح کرتے تھے ۔
قال في النهاية: النصب: حجر كانوا ينصبونه في الجاهلية ويتخذونه صنماً فيعبدونه والجمع: أنصاب وقيل: هو حجر كانوا ينصبونه ويذبحون عليه فيحمر بالدم. (النهاية في غريب الأثر: ۵/۱٤۰، المكتبة العلمية، بيروت).
چنانچہ علماء کرام کی یہ جماعت کہتی ہے کہ آلاتِ جدیدہ سے تصویر لینے والے دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ جو غلط مقاصد کے لیے یا فضول تصویریں لیتے ہیں ان کا یہ کام ناجائز ہے اس لیے کہ اس تصویر لینے میں دینی ضرر اور فتنہ ہے اور یہ کام مخربِ اخلاق اور بے شمار فتنوں کا دروازہ ہے اس لیے یہ ناجائز ہے ۔
دوسری قسم وہ لوگ ہیں جو صحیح مقصد کے لیے یا کسی ضرورت کے لیے تصویر بنواتے ہیں ۔
اگر آلاتِ جدیدہ کی تصویر کو ہم حرام تصویر کے اندر داخل کر دیں تو امتِ مسلمہ حرجِ عظیم میں مبتلا ہو جائے گی جس سے اولیاء اور علماء سے لیکر ایک ادنی مسلمان تک گناہ سے نہیں بچ سکیں گے، اس کی مثال ملاحظہ فرمائیں تاکہ حرجِ عظیم سمجھ میں آ جائے ۔
بے شمار علماء صلحاء نفلی حج، دوست و احباب کی ملاقات وعظ و نصیحت کے لیے پاسپورٹ کے ساتھ بیرونی ممالک کا سفر کرتے ہیں پاسپورٹ، ویزا کے لیے فوٹو ضروری ہے، اس لیے فوٹو نکلواتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں مذکورہ بالا سفر مستحب ہے یا مباح اگر جدید آلات کی تصویر کو ہم حرام کہہ دیں تو کیا مباح یا مستحب کے لیے حرام کا ارتکاب جائز ہو سکتا ہے؟ بالکل نہیں اگر بیرونی مستحب سفر کے لیے ڈاڑھی کا منڈوانا ضروری قرار دیا جائے تو کیا جائز ہو جائے گا قطعاً نہیں، اس لیے علماء کی اس جماعت کے نزدیک موجود تصویر جو جدید آلات سے لی جاتی ہے اور آگے اس میں صفائی وغیرہ کا انسانی دخل نہیں ہوتا اس کے نزدیک تصویر نہیں، ہاں اگر کبھی فحاشی اور دینی ضرر پر مشتمل ہو تو پھر ناجائز ہو گی ۔
ملاحظہ ہو حضرت مولانا مفتی رفیع صاحب عثمانی دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں:
الثالث: حكم الصور الملتقطة بالكاميرا الفوتوغرافية:
وأما الصور الفوتوغرافية التي تسمي "الصور الشمسية" فاختلف في جوازها العلماء المعاصرون.
فأما القائلون بالجواز فعللوه بعلل شتي: فمنهم من علل الجواز بعدم المضاهاة لخلق الله تعالى في هذا النوع من الصور، وعلي رأسهم العلامة الشيخ محمد بخيت مفتي مصر رحمه الله، ونصه ما يلي:
"إذا تقرر هذا فنقول: إن علة حرمة التصوير على ما تقدم هي مضاهاة خلق الله تعالى وذلك لان معني التصوير هو إيجاد الصورة بمعني أن المصور يحدث صورة حيوان بفعله وصنعه حتى بذلك يكون مضاهياً لخلق الله ويعذب يوم القيامة ويقال: انفخ فيها الروح وليس بنافخ أو يقال لهم: أحيوا ما خلقتم، وحينئذٍ ينظر فيما يفعله بعض الناس في عصرنا من أخذ صور الحيوانات من الأناس وغيرهم بالآلة المسماة "الفوتوغرافية" إن كان فيه معني التصوير أو ليس فيه معني التصوير؟ وهل توجد فيه علة التحريم المذكور أو لا توجد؟ (إلي قوله) إذا تقرر هذا وعلمت أن أخذ الصور بالفوتوغرافيا ليس إلا حبس الظل الناشي بخلق الله تعالى من مقابلة الأجسام
وعلمت أن أخذ الصورة على هذا الوجه ليس إيجاد الصورة ومعني التصوير لغة وشرعاً هو إيجاد الصورة وصنعها بعد أن لم تكن، فلم يكن ذلك الأخذ تصويراً وليس فيه معني التصوير والمضاهاة لخلق الله". (الجواب الشافي في إباحة التصوير الفوتوغرافي، ص ۲۲).
ومنهم من قال: إن علة تحريم الصور هي العبادة والتعظيم لها، والصور الشمسية لا تعبد، وإليه ذهب الشيخ محمد رشيد رضا، صاحب تفسير المنار، قائلاً: إن المحرم من التصوير هو ما اتخذ للعبادة والتعظيم، ونصه فيما يلي:
إن المحرم من التصوير هو ما اتخذ للتعظيم، لان في الصور المعظمة محاكاة لعبادة الأصنام والعلة تدور مع المعلول وجوداً وعدماً، وأهل هذا الزمن لا يتخذون الصور للعبادة ولا التعظيم وإنما تتخذ الصور الآن في مجالات الطب والعلوم الطبيعية والتاريخ، وتحقيق الشخصية". انتهى.
ومنهم من علل جواز التصوير الفوتوغرافي بعدم كونه تصويراً حقيقياً، بل هو عندهم من قبيل العكس الذي يظهر على المرآة أو على الماء أو على سطح صيقل، وإليه ذهب عدد كبير من علماء البلاد العربية، وعلى رأسهم العلامة الشيخ أحمد الخطيب من علماء مكة المكرمة في القرن الماضي فقد أفتي بجوازه مطلقاً، والعلامة الشيخ محمد على السايس، كما نقله الشيخ محمد على الصابوني في كتابه "حكم الإسلام في التصوير" (ص ٤۹) وفي كتابه "آيات الأحكام" (۲/٤۱۵): ونصه ما يلي:
ولعلك تريد بعد ذلك أن تعرف حكم ما يسمي بالتصوير الشمسي أو (الفوتوغرافي) فنقول: يمكنك أن تقول: إن حكمها حكم الرقم في الثوب وقد علمت استثناء ه نصاً، ولك أن تقول: إن هذا ليس تصويراً بل حبس للصورة وما مثله إلا كمثل الصورة في المرآة ولا يمكنك أن تقول: إن ما في المرآة صورة وأن أحداً صورها، والذي تصنعه آلة التصوير هو صورة لما في المرآة، غاية الأمر أن مرآة الفوتوغرافية تثبت الظل الذي يقع عليها والمرآة ليس كذلك ثم يقول: وما دام في الشريعة فسحة بإباحة هذه الصور كاستثناء الرقم في الثوب فلا معني لتحريمها خصوصاً وقد ظهر أن الناس قد يكونون في أشد الحاجة إليها.
ونقل الشيخ محمد بن أحمد على واصل في "أحكام التصوير" عن بعض العلماء (ص ۳۳٦) :
"إن التصوير الٓالي بما في ذلك التصوير الفوتوغرافي شبيه تماماً بالصورة التي تظهر على المرآة أو على الماء أو على أي سطح لا مع ولا يستطيع أحد أن يقول: إن ما يظهر على المرآة ونحوها حرام، لكونها صورة، وهكذا صورة الفوتوغرافية، إلا أن مرآة الفوتو غرافية تثبت الظل الذي يقع عليها والمرآة ليس كذلك، وليس هذا في الحقيقة تصويراً بل أنه إظهار واستدامة لصورة موجودة وحبس لها عن الزوال. (مقالة "التصوير بالكاميرا والفيديو والرسم في المساجد والمدارس الإسلامية للشيخ المفتي رفيع العثماني، ص ۵۱، ۵۲، ط: المؤسسة الإسلامية، تورنتو).
وينظر: (الجواب الشافي في إباحة التصوير الفوتوغرافي، للشيخ مفتي الديار المصرية محمد بخيت المطيعي الحنفي، ط: المطبعة الخيرية إدارة السيد محمد عمر الخشاب، وتكملة فتح الملهم: ٤/۱٦۲).
مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی فرماتے ہیں:
سلفِ صالحین کے زمانہ سے ایک گروہ ایسی تصویر کی حرمت کا قائل رہا ہے جو سایہ دار ہو یعنی مجسمے، بے سایہ تصویریں جیسے کاغذی تصویریں ان کے نزدیک جائز ہیں، عینی رحمه الله کا بیان ہے:
وقال قوم: إنما كره من ذلك ما له ظل ولا ظل له فليس به بأس
، امام نووی رحمه الله نے بھی ایک جماعت علماء سے ایسی تصویروں کا جواز نقل کیا ہے، اور اسی بنا پر قاضی عیاض نے صرف سایہ دار تصویر یعنی مجسمہ کی حرمت پر اجماع و اتفاق نقل کیا ہے اور اس سے بھی گڑیا کو مستثنی رکھا ہے
ذی روح کی بڑی بے سایہ تصویروں کے سلسلہ میں فقہاء کے اندر اختلاف ہے، سلفِ صالحین کی ایک جماعت خصوصیت سے فقہائے مالکیہ کا ایک طبقہ اس کے جواز کا قائل ہے جب کہ اکثر فقہاء اس کو اصلاً ناجائز کہتے ہیں ۔ (حلال و حرام، ص۲۲٦ ۔ ۲۲۹) ۔ (و کذا فی جدید فقہی مسائل: ۱/۳۵٤ ۔ ۳۵۹، و قاموس الفقہ: جلدِ دوم، ص
407
) ۔
لیکن دوسرے علماء فرماتے ہیں کہ موجود ہ جدید آلات کی تصویر شرعی تصویر کے حکم میں ہے بلکہ اس سے زیادہ مضر ہے ۔ ملاحظہ تکملہ فتح الملہم میں ہے:
ولكن كثيراً من علماء البلاد العربية، وجلهم أوكلهم في البلاد الهندية، قد أفتوا بأنه لا فرق بين الصورة المرسومة والصورة الشمسية في الحكم، ولنحك لك أقوال بعض المعاصرين من علماء البلاد العربية:
قال الشيخ مصطفي الحمامي في كتاب "النهضة الإصلاحية" (ص ۳٦٤ و ۵٦۵): وإني أحب أن تجزم الجزم كله أن التصوير بآلة التصوير (الفوتوغراف) كالتصوير باليد تماماً، فيحرم على المؤمن تسليطها للتصوير، ويحرم عليه تمكين مسلطها لالتقاط صورته بها، لأنه بهذا التمكين يعين على فعل محرم غليظ، وليس من الصواب في شيء ما ذهب إليه أحد علماء عصرنا هذا من استباحة التصوير بتلك الآلة بحجة أن التصوير ما كان باليد والتصوير بهذه الآلة لا دخل لليد فلا يكون حراماً، وهذا عندي أشبه بمن يرسل أسداً مفترساً فيقتل من يقتل أو يفتح تياراً كهربائياً يعدم كل من مر به أو يضع سماً في طعام فيهلك كل من يتناول من ذلك الطعام، فإذا وجه إليه اتهام بالقتل قال: أناْ لم أقتل، إنما قتل السم والكهرباء والأسد
"
قال الشيخ محمد ناصر الدين الألباني في كتابه آداب الزفاف "وقريب من هذا تفريق بعضهم بين الرسم باليد وبين التصوير الشمسي يزعم أنه ليس من عمل الإنسان! وليس من عمله فيه إلا إمساك الظل فقط! كذا زعموا، أما ذلك الجهد الجبار الذي صرفه المخترع لهذه الآلة حتى استطاع أن يصور في لحظة ما لا يستطيعه بدونها في ساعات، فليس من عمل الإنسان عند هؤلاء!
وثمرة التفريق عندهم أنه يجوز تعليق صورة رجل مثلاً في البيت إذا كانت مصورة بالتصوير الشمسي، ولا يجوز ذلك إذ كانت مصورة باليد!
أما أناْ فلم أره مثلاً إلا جمود بعض أهل الظاهر قديماً، مثل قول أحدهم في حديث "نهي رسول الله ﷺ عن البول في الماء الراكد" قال: فالنهى عنه هو البول في الماء مباشرة أما لو بال في إناء ثم أراقه في الماء فهذا ليس منهيا عنه"
۔
وقال الشيخ محمد على الصابوني في رسالته "حكم الإسلام في التصوير" (ص: ۱۵) وفي تفسير آيات الأحكام: "إن التصوير الشمسي لا يخرج عن كونه نوعاً من أنواع التصوير فما يخرج بالآلة يسمي صورة والشخص مصوراً، فهو وإن كان لا يشمله النص الصريح، لأنه ليس تصويراً باليد، وليس فيه مضاهاة لخلق الله، إلا أنه لا يخرج عن كونه ضرباً من ضروب التصوير، فينبغي أن يقتصر في الإباحة على حد الضرورة".
آخر میں حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب بطورِ قولِ فیصل لکھتے ہیں:
والواقع أن التفريق بين الصور المرسومة والصور الشمسية لا ينبغي على أصل قوي، ومن المقرر شرعاً أن ما كان حراماً أو غير مشروع في أصله لا يتغير حكمه بتغير الآلة، فالخمر حرام، سواء خمرت باليد، أو بالماكينات الحديثة، والقتل حرام، سواء باشره المرء بسكين، أو بإطلاق الرصاص، فكذلك الصورة، قد نهي الشارع عن صنعها واقتنائها فلا فرق بينما كانت الصورة قد اتخذت بريشة المصور، أو بالآلات الفوتوغرافية. والله أعلم. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱٦۲. ۱٦۳).
حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب اپنے مقالہ میں فرماتے ہیں:
ولكن كثيراً من علماء البلاد العربية، منهم العلامة الشيخ الألباني والشيخ مصطفي الحمامي والشيخ الصابوني والشيخ محمد بن أحمد والواصل وغيرهم، وجل العلماء أو كلهم في بلاد باكستان، والهند وبنغله ديش، قد أفتوا بأنه لا فرق بين الصور المرسومة يدوياً والصور الشمسية الفوتوغرافية في عدم الجواز أي لا يجوز، وبه نفتي بجامعة دار العلوم كراتشي. (مقالة "التصوير بالكاميرا والفيديو والرسم في المساجد والمدارس الإسلامية للشيخ المفتي رفيع العثماني، ص: ۵۲، ط: المؤسسة الإسلامية، تورنتو).
ہاں مواضعِ ضرورت میں یہ حضرات بھی اجازت دیتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:
هذا هو حكم الصورة في الأصل، أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة كحاجتها في جواز السفر، وفي التأشيرة، وفي البطاقات الشخصية، أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هوية المرء، فينبغي أن يكون مرخصاً فيه، فإن الفقهاء استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة، قال الإمام محمد رحمه الله في السير الكبير: وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله" وأعقبه السرخسي رحمه الله في شرحه (۲/۲۷۸) بقوله: لان مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة
الخ. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱٦٤).
حلال و حرام میں ہے:
(٦) ضرورۃ ً مثلاً پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بس و ریلوے پاس، مجرموں کی شناخت کے لیے تصویروں کی حفاظت یا کسی بڑی قومی مصلحت کے تحت تصویر کشی جائز ہو گی کہ دشواریوں کی وجہ سے احکامِ شرع میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے:
المشقة تجلب التيسير
۔ (حلال و حرام، ص۲۲۹) ۔
حضرت مفتی تقی صاحب تقریر ترمذی میں درجِ ذیل الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں:
مواضع حاجت میں تصویر کا حکم:
البتہ اس اختلاف سے ایک بات یہ سامنے آتی ہے کہ اس کا جواز اور عدمِ جواز دو وجہ سے مجتہد فیہ معاملہ بن گیا ہے، ایک یہ کہ اس بارے میں امام مالک رحمه الله کا اختلاف ہے ۔ دوسرے یہ کہ کیمرے کی تصویر کے بارے میں علامہ بخیط رحمه الله کا فتوی موجود ہے ۔ اگر چہ وہ فتوی ہمارے نزدیک درست نہیں ہے، لیکن بہرحال ایک جدید شیٔ کے بارے میں ایک متورع عالم کا قول موجود ہے، اس لیے یہ مسئلہ مجتہد فیہ بن گیا ۔ اور مجتہد فیہ مسئلہ میں حاجتِ عامہ کے وقت گنجائش پیدا ہو جاتی ہے ۔ لہذا جہاں کہیں حاجتِ عامہ ہو گی جیسے پاسپورٹ میں اور شناختی کارڈ میں یا کسی ایسی جگہ میں جہاں انسان کو اپنی شناخت کرانی ہو اور شناخت کے بغیر کام نہ چلتا ہو اور تصویر کے بغیر شناخت نہ ہو سکتی ہو تو ان مواقع پر اس کا استعمال جائز ہو جائے گا، اور مواضع حاجت کے بغیر اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ۔ اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔ (تقریر ترمذی، جلدِ دوم، ص ۳۵۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کا رسالہ "تصویر کے شرعی احکام، ط: ادارۃ المعارف، کراچی، و احسن الفتاوی: ۹/۸۹، و ج: ۸/۳۰۲، و کتاب الفتاوی: ٦/۱۷۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.