چھوٹی تصاویر بنانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #270Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

کیا میرے لیے درجِ ذیل کپڑے اور پر دے بنانا جائز ہے یا نہیں؟
(۱) ایسے کپڑے جن پر جانوروں کی تصاویر بنی ہوئی ہو ۔
(۲) ایسے کپڑے جن پر انسانوں کی تصویریں ہوں ۔
(۳) ایسے کپڑے جن پر دنیا کے مشہور لوگوں کی تصویریں ہوں ۔
(٤) ایسے کپڑے جن پر ایسے لوگوں کی تصویریں ہوتی ہیں جو موسیقی کا آلہ بجا رہے ہیں اور ناچ رہے ہیں ۔ (۵) ایسے کپڑے جن پر تماثیل ہیں اور بعض تصویریں برہنہ لوگوں کی ہیں ۔
میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو بڑی مقدار میں ہول سیل میں بیچتا ہوں، کیا یہ جائز ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آپ کے لیے ایسی تصویریں بنانا اور تصویروں والے کپڑوں کو فروخت کرنا ناجائز ہے کیوں کہ ان کپڑوں میں تصاویر بالذات مقصود ہیں ۔ ہاں کپڑوں میں بطور لیبل جو تصاویر ہوتی ہیں تبعاً اس کی تجارت جائز ہے لیکن پھر بھی چھوٹی تصویر کا بنانا تو بالکل ناجائز ہے ۔ البتہ غیر ذی روح والی تصاویر بنانے اور بیچنے کی اجازت ہے ۔ ملاحظہ کیجیے حدیث شریف میں ہے:

عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنه إذ أتاه رجل فقال: يا ابن عباس إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس رضي الله عنه: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله ﷺ يقول: سمعته يقول: من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبداً فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه فقال: ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر كل شيء ليس فيه روح. (أخرجه البخاري، رقم: ۲۲۲۵، باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح وما يكره من ذلك).

تصویر کشی سے متعلق مزید دلائل ما قبل میں گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:
بیع و شراء میں اگر تصاویر مقصود نہ ہوں بلکہ دوسری چیزوں کے تابع ہو کر آ جائیں جیسے اکثر کپڑوں میں مورتیں لگی ہوتی ہیں یا برتنوں اور دوسری مصنوعاتِ جدیدہ میں اس کا رواج عام ہے، تو اس کی خرید و فروخت تبعاً جائز ہے،
كما يستفاد من بلوغ القصد والمرام معزياً للهيثمي (بلوغ، ص: ۱۸) ولما هو من القواعد المسلمة من فقه الأحناف أن كثيراً من الأفعال لا يجوز قصداً ويجوز تبعاً كما صرحوا في جواز بيع الحقوق تبعاً للدار ولا أصالة وقصداً.

لیکن جب کہ خود تصاویر ہی کی بیع و شراء مقصود ہو تو خریدنا اور فروخت کرنا دونوں ناجائز ہیں ۔ (تصویر کے شرعی احکام، ص ۸۸) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص۸٤ ۔ ۸٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.