اشیائے خوردنی وغیرہ پر تصویری لیبل کا حکم:
Question
موجود ہ دور میں اکثر اشیاء پر تصویری لیبل ہوتے ہیں، مثلاً کھانے پینے کی چیزوں پر یا لباس پوشاک وغیرہ پر، پانی کے بوٹل پر نیز دیگر اشیاء پر، ان تصاویر کے ہوتے ہوے خرید و فروخت جائز ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ان اشیاء میں تصاویر مقصود نہیں ہوتیں اور بہت سی مرتبہ تو بہت چھوٹی تصاویر ہوتی ہیں جو عام طور پر صاف نظر نہیں آتیں بنا بریں تبعاً ان کی تجارت جائز اور درست ہے، نیز اس کا استعمال بھی درست ہے، البتہ وہ تصاویر جو مقصود بالذات ہوتی ہیں ان کی تجارت ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:
بیع و شراء میں اگر تصاویر مقصود نہ ہوں بلکہ دوسری چیزوں کے تابع ہو کر آ جائیں جیسے اکثر کپڑوں میں مورتیں لگی ہوتی ہیں یا برتنوں اور دوسری مصنوعاتِ جدیدہ میں اس کا رواج عام ہے، تو اس کی خرید و فروخت تبعاً جائز ہے،
كما يستفاد من بلوغ القصد والمرام معزياً للهيثمي (بلوغ، ص: ۱۸) ولما هو من القواعد المسلمة من فقه الأحناف أن كثيراً من الأفعال لا يجوز قصداً ويجوز تبعاً كما صرحوا في جواز بيع الحقوق تبعاً للدار ولا إصالة وقصداً.
لیکن جب کہ خود تصاویر ہی کی بیع و شراء مقصود ہو تو خریدنا اور فروخت کرنا دونوں ناجائز ہیں ۔ (تصویر کے شرعی احکام، ص ۸۸) ۔
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
اگر ڈبے پر تصویر ہوا اور اصل مقصود وہ شیٔ ہے نہ کہ ڈبا تو اس بیع میں مضائقہ نہیں ہے اور اگر بالفرض ڈبا بھی مقصود ہو تو اس پر جو تصویر ہے وہ مقصود نہیں ہے، اس لیے اس کی بیع میں مضائقہ نہیں ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص۵۲۱) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص۸٤ ۔ ۸٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.