نبی پاک ﷺ کے مسحور ہونے کا مطلب:

6 min readFatwa Vol 7 #291Urdu
Vol. 7باب (۹): ما يتعلق بالقرآن الكريم و الذكر و التلاوة و الأشياء المقدسة

Question

معوذتین مکی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا واقعہ سحر مدنی ہے، تو ان سورتوں کے نزول کا اس واقعہ سے کیا تعلق ہے؟ اور کیا حضور ﷺ مسحور ہو سکتے ہیں؟ جب کہ کفار یہ جملہ کہتے ہیں:
إن تتبعون إلا رجلاً مسحوراً؟ بينوا توجروا
۔

Answer

بصورتِ مسئولہ معوذتین کو بعض حضرات نے مکی کہا ہے اور بعض نے مدنی کہا ہے اگر مکی ہو تو مدینہ منورہ میں نزول کے معنی اس کو مسحور کے دم کے لیے مقرر کرنا ہے ۔
نبی پاک ﷺ بشری خواص سے مستثنی نہیں تھے، آنحضرت ﷺ امورِ دنیا میں جسمانی کمزوری محسوس فرماتے تھے کبھی کوئی کام نہیں کیا ہوتا اور کیا ہوا سمجھتے تھے تو ان چیزوں کا تعلق امورِ دینیہ سے نہیں، امورِ دینیہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔
اور مشرکین مکہ کے حضور آ کرم ﷺ کو مسحور کہنے کی حسبِ ذیل چند وجوہات ہیں:
(۱) مسحور ساحر کے معنی میں آتا ہے، مطلب یہ ہو گا الا رجلاً ساحراً، کیوں کہ سحر تو مدینہ منورہ میں ہوا تھا، اور مکہ مکرمہ میں معجزات کی وجہ سے ساحر کہتے تھے ۔ اور مسحور ساحر کے معنی میں قرآنِ کریم میں مستعمل ہوا ہے:

ولقد آتينا موسى تسع آيات فسئل بني إسرائيل إذ جاء هم فقال له فرعون: إني لاظنك ىموسى مسحوراً. (الاسراء: ۱۰۱).

نیز سورۂ بنی اسرائیل میں مفعول کے اکثر صیغے اسم فاعل کے معنی میں آئے ہیں؛ جیسے:
وإذا قرئت القرآن جعلنا بينك وبين الذين لا يؤمنون بالآخرة حجاباً مستوراً. (الاسراء: ٤۵) أي ساتراً.

(۲) ضروری نہیں کہ کفار کی ہر بات غلط ہو، کفار رسول اللہ ﷺ کو بشر کہتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟ ان کا مقصد یہ تھا:
محمد بشر (صغرى) والبشر لا يكون نبياً (كبرى) فمحمد لا يكون نبياً. (
نتیجہ) ۔
ان کا صغری تو صحیح تھا لیکن کبری غلط تھا اس وجہ سے نتیجہ بھی غلط نکلا ۔
اسی طرح ان کا یہ مطلب کہ محمد مسحور ہے اور مسحور نبی نہیں تو محمد نبی نہیں تو یہ غلط ہے، مسحور بیمار کے معنی میں ہے اور بیماری خواصِ بشر میں سے ہے جب رسول بشر ہے تو رسول کے ساتھ خواصِ بشر کا پیش آنا رسول ہونے کے منافی نہیں ہے ۔
(۳) رسول کو مسحور کہا اس کا مطلب یہ تھا کہ مختلط الحواس اور مجنون ہیں ۔
مختصر دلائل ملاحظہ فرمائیں: ۔ روح المعانی میں علامہ آلوسی رحمه الله فرماتے ہیں:

سورة الفلق: مكية في قول الحسن وعطاء وعكرمة وجابر ورواية كريب عن ابن عباس رضي الله عنه مدنية في قول ابن عباس رضي الله عنه في رواية أبي صالح وقتادة وهو الصحيح لان سبب نزولها سحر اليهود، وهم إنما سحروه عليه الصلاة والسلام بالمدينة كما جاء في الصحاح فلا يلتفت لمن صحح كونها مكية وكذا الكلام في سورة الناس. (روح المعاني: ۳۰/۲۷۹). (وكذا في زاد المسير: ۹/۲۷۰، والتفسير).

معارف القرآن میں مرقوم ہے:
کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہو جانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا بیماری کا اثر ہو جانا اس لیے کہ انبیاء علیہم السلام بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے بخار اور درد ہو سکتا ہے ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہو سکتا ہے ۔ (معارف القرآن:
۵
/
٤۷۸
) ۔
انبیا ء علیہم السلام پر سحر کے اثر کرنے کی تحقیق ملاحظہ ہو :

تحقيق تأثر الأنبياء بالسحر: وأما تأثر الأنبياء عليهم السلام بالسحر، فقد روي عن عائشة رضي الله تعالى عنها: أنه عليه السلام سحر حتى أنه ليخيل إليه أنه فعل الشيء وما فعله، الحديث

الجواب عن إيراد الجصاص على حديث تأثر النبي ﷺ بالسحر: وما قاله الجصاص رحمه الله: إن مثل هذه الأخبار من وضع الملحدين وقال: إنه لم يقل كل الرواة: أنه ﷺ اختلط عليه أمره، وإنما هذا اللفظ زيد في الحديث ولا أصل له، انتهى، فلم أجد له وجهاً وجيهاً؛ فإن الحديث قد جاء عن غير واحد من الصحابة عن غير واحد من الطرق الصحيحة بأسانيد رجالها كلهم ثقات. والذي حمل الجصاص ومن تبعه على رد الحديث أن تجويز هذا يعدم الثقة بما شرعه من الشرائع إذ يحتمل على هذا أن يخيل إليه أنه يري جبريل وليس هو ثم، وأنه يوحي إليه بشيء ولم يوح إليه شيء، وهذا يحط منصب النبوة ويشكك فيها، وكل ما أدي إلى ذلك فهو باطل، قلنا: لا مجال لهذا الاحتمال، وإنما يتأتى ذلك لو نقل عنه في خبر من الأخبار أنه قال قولاً فكان بخلاف ما أخبر به، ولم ينقل عنه في خبر من الأخبار ما يوهم ذلك

وأما ما يتعلق ببعض أمور الدنيا التي لم يبعث لا جلها، ولا كانت الرسالة لا جلها، فهو في ذلك عرضة لما يعترض البشر كالأمراض، فغير بعيد أن يخيل إليه في أمر من أمور الدنيا ما لا حقيقة له مع عصمته عن مثل ذلك في أمور الدين

إلي قوله: وبالجملة لم يقم دليل عقلي ولا سمعي على امتناع تأثر الأنبياء عليهم السلام به مطلقاً؛ بل قد وردت الأحاديث الصحيحة بثبوته في الجملة، وهو ظاهر القرآن، نعم: لا يجوز تأثرهم به فيما يتعلق بالتشريع والتبليغ

الخ. (أحكام القرآن للعلامة التهانوي رحمه الله: ۱/٤٤. ٤۸، ط: إدارة القرآن).
روح المعاني
میں ہے:

إن الله عصمه فيما يتعلق بالرسالة وأما ما يتعلق ببعض أمور الدنيا التي لم يبعث عليه الصلاة والسلام بسببها وهي مما يعرض للبشر فغير بعيد أن يخيل إليه من ذلك ما لا حقيقة له

وقال القاضي عياض: قد جاء ت روايات حديث عائشة رضي الله عنه مبينة أن السحر إنما تسلط على جسده الشريف ﷺ وظواهر جوارحه لا على عقله عليه الصلاة والسلام وقلبه واعتقاده

(روح المعاني: ۳۰/۲۸۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.