اجتماعی طور پر جہراً تلاوت کرنے کا حکم:
Question
اگر کئی آدمی اکٹھے بیٹھ کر تلاوت کرتے ہوں، اور ایسی ہلکی آواز سے تلاوت کرتے ہوں کہ دوسرے کے پڑھنے میں حرج نہ ہو تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ قرآنِ کریم کی تلاوت کا سننا آیتِ کریمہ کی روشنی میں ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر زور سے تلاوت کرتے ہوں تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
قرآنِ کریم کا سننا نماز میں لازم ہے اور نماز سے باہر مستحب ہے، یہ قول آسان اور راجح ہے نیز اگر کوئی شخص کسی کام میں پہلے سے مشغول ہے یا خود تلاوت کر رہا ہے تو ترکِ استماع کی گنجائش ہے، خصوصاً درجہ حفظ کے لیے تو اس کی گنجائش واضح ہے ۔
اور اگر کوئی اشکال کرے کہ قرآنِ کریم کا یہ حکم:
﴿وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون﴾
مطلق عام ہے نماز وغیرہ نماز دونوں کو شامل ہے ۔
تو اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ استماع کا وجوب نماز کے ساتھ مخصوص ہے خارج الصلوۃ میں استحباب ہے اور اس کی دلیل ابن کثیر اور عالمگیری کی وہ عبارات ہیں جو درجِ ذیل ہیں، خارج الصلوۃ کی تلاوت سننے میں فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کا قول بھی فقہاء نے نقل فرمایا ہے لیکن استحباب کا قول آسان ہونے کی وجہ سے اولی ہے ۔
کبیری نے فرضِ کفایہ اور دوسرے فقہاء نے واجب علی العین فرمایا ہے، ابن وہبان کے اس شعر:
وأثوب من ذكر القرآن استماعه
٭
وقالوا ثواب الطفل للطفل يحصر
، کے ذیل میں علامہ شامی رحمه الله لکھتے ہیں:
استماعه لوجوبه وندب القرآءة. (فتاوى الشامي: ٦/٤۳۰، سعيد).
آیتِ کریمہ سے متعلق علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں ملاحظہ ہوں:
(۱) جب حضورِ آ کرم ﷺ تلاوت فرمائیں بوقتِ نزول تو اس کو خاموشی سے سنو ۔
(۲) جمہور صحابہ کرام کا قول یہ ہے کہ یہ آیتِ کریمہ مقتدی کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔
(۳) جمعہ کے دن خطبہ سننے کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
(٤) خطبہ اور مقتدی دونوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ قول اصح ہے ۔
قال في مدارك التنزيل: ظاهره وجوب الاستماع والإنصات وقت قراءة القرآن في الصلاة وغيرها، وقيل: معناه إذا تلا عليكم الرسول ﷺ القرآن عند نزوله فاستمعوا له وجمهور الصحابة على أنه في استماع المؤتم. وقيل: في استماع الخطبة. وقيل: فيهما، وهو الأصح. (تفسير النسفي: ۲/۸۳، دار النفائس، بيروت).
نیز احادیث و آثار کی روشنی میں خارج الصلوۃ ترکِ استماع کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
وقال ابن جرير: حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: رأيت عبيد بن عمير وعطاء بن أبي رباح يتحدثان، والقاص يقص، فقلت: ألا تستمعان إلى الذكر وتستوجبان الموعود؟ قال: فنظرا إلي، ثم أقبلا على حديثهما. قال: فأعدت الثالثة، قال: فنظرا إلى فقالا: ذلك في الصلاة: وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا.
وقال سفيان الثوري، عن أبي هاشم إسماعيل بن كثير، عن مجاهد في قوله تعالى: وإذا قرئ القرآن
الخ. قال في الصلاة، وكذا رواه غير واحد عن مجاهد. وقال عبد الرزاق، عن الثوري، عن ليث، عن مجاهد رحمه الله قال: لا بأس إذا قرأ الرجل في غير الصلاة أن يتكلم. (تفسير ابن كثير: ۲/۲۸۷).
وللمزيد راجع: (تفسير الطبري: ۱۳/۳٤٦، ط: مؤسسة الرسالة، وفي ظلال القرآن: ۳/۳۵۲).
تفسیر مظہر ی میں قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمه الله نے روایات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ خارج الصلوۃ کی تلاوت سننا واجب نہیں ہے اور صاحب خلاصۃ الفتاوی کی عبارت وجوب پر دال تھی اس کو رد کیا ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (
التفسير المظهري: ۳/٤۵۱، ط: بلوچستان).
قال الإمام البخاري رحمه الله في صحيحه (٤۲۳۲): قال أبو بردة عن أبي موسي قال النبي ﷺ إني لا عرف أصوات رفقة الأشعريين بالقرآن حين يدخلون بالليل وأعرف منازلهم من أصواتهم بالقرآن بالليل وإن كنت لم أر منازلهم حين نزلوا بالنهار. وأخرج الإمام مسلم في صحيحه (۲٤۹۹، باب من فضائل الأشعريين).
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
اس واقعہ میں بھی رسولِ کریم ﷺ نے اشعری حضرات کو اس سے منع نہیں فرمایا کہ بلند آواز سے کیوں قراء ت کی اور نہ سونے والوں کو ہدایت فرمائی کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو تم سب اٹھ بیٹھو اور قرآن سنو، اس قسم کی روایات سے فقہاء نے خارج نماز کی تلاوت کے معاملہ میں کچھ گنجائش دی ہے لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارج نماز بھی جب کہیں سے تلاوتِ قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے ۔ (معارف القرآن:
٤
/
۱٦٤
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
اگر کوئی شخص بطورِ خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، کیوں کہ احادیثِ صحیحہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز میں جہراً تلاوت فرماتے تھے اور ازواجِ مطہرات اس وقت نیند میں ہوتی تھیں، بعض اوقات حجرہ سے باہر بھی آنحضرت ﷺ کی آواز سنی جاتی تھی ۔ (معارف القرآن:
٤
/
۱٦٤
) ۔ (و کذا فی بیان القرآن:
٤
/
٦۲
) ۔
فقہاء کے بعض جزئیات سے پتا چلتا ہے کہ ایک ساتھ تلاوت میں ایک دوسرے کا سننا واجب نہیں ہے ۔
قال في الفتاوى الهندية: قوم يجتمعون ويقرءون الفاتحة جهراً دعاء لا يمنعون عادة والأولى المخافتة في الخجندي أمام يعتاد كل غداة مع جماعته قراءة آية الكرسي وآخر البقرة وشهد الله ونحوها جهراً لا بأس به والأفضل الإخفاء كذا في القنية
۔
(الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۷)
۔
قال الطحطاوي رحمه الله: وفي الدرة المنيفة عن القنية: يكره للقوم أن يقرأوا القرآن جملة لتضمنها ترك الاستماع والإنصات وقيل: لا بأس به. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۳۱۸، فصل في صفة الأذكار، قديمي). وكذا في الموسوعة الفقهية: ۳۳/٦۲، نقلاً عن غنية المتملي).
وفي الفتاوى الهندية: ولا بأس باجتماعهم على قراءة الإخلاص جهراً عند ختم القرآن، ولو قرأ واحد واستمع الباقون فهو أولي، كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۷).
(وكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ٤/۲۲۰، ط: بيروت، والبريقة المحمودية في شرح الطريقة المحمدية: ۵/۱۱۰).
حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں: سماعِ قرآن میں دونوں قول ہیں، میں آسانی کے لیے اسی کو اختیار کرتا ہوں کہ خارج الصلوۃ مستحب ہے ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۵۹
) ۔ (و کذا فی خیر الفتاوی:
۱
/
۲٦۰
، و آپ کے مسائل اور ان کا حل:
٤
/
٤۵٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.