دینی کتب اور رسائل کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #319Urdu
Vol. 7باب (۹): ما يتعلق بالقرآن الكريم و الذكر و التلاوة و الأشياء المقدسة

Question

عام طور پر دینی کتب و رسائل جب پرانے ہو جاتے ہیں تو لوگ ان کو غلط جگہوں پر ڈالتے ہیں جن کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے بعض حضرات نے ان کو جمع کرنے کا کام شروع کیا ہے لیکن اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ نیز ان رسائل وغیرہ کی اصلاح کر کے دوبارہ استعمال کرنا جائز ہو گا یا نہیں؟ برائے کرم حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں۔

Answer

دینی کتب اور رسائل کے بارے میں بعض کتب میں مرقوم ہے کہ اللہ تعالی کا نام مٹا دیا جائے لیکن اس میں حرج ہے، البتہ پاک صاف جگہ پر دفن کر دیا جائے یا پانی میں بہا دیا جائے، اگر یہ دو صورتیں بآسانی ممکن نہ ہوں تو جلا دیا جائے اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت عثمان رضی الله عنه نے مصاحف کو جلایا تھا جس کی تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے۔ ہاں بے حرمتی کی نیت سے جلانا درست نہیں۔
ان رسائل اور دینی کتب کی صفائی (Recycle) کر کے دوبارہ استعمال میں لانا بھی جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي ﷺ فيجوز محوه ليلف فيه شيء. (البحر الرائق: ۱/۲۱۲، دار المعرفة). (وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۱۷۸، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۳۲۲، الباب الخامس من كتاب الكراهية).

احسن الفتاوی میں ہے:
جن کاغذوں پر آیاتِ قرآنیہ یا مباحثِ شرعیہ یا مسائل تحریر ہوں ان میں پڑیا باندھنا جائز نہیں، البتہ اگر مباحثِ شرعیہ نہ ہوں تو اللہ تعالی اور انبیائے کرام اور کتبِ الہیہ کے اسماء کاٹ کر باقی کاغذ میں پڑیا باندھنا جائز ہے۔ (احسن الفتاوی: ۸/۱۳)۔

وفي الدر: ويجوز لف شيء في كاغذ فقه ونحوه، وفي كتب الطب يجوز. وفي الشامية: ولوكان فيه اسم الله تعالى واسم النبي ﷺ يجوز محوه ليلف فيه شيء. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۷، سعيد).

کفایت المفتی میں ہے:
قرآن مجید کے بوسیدہ اوراق محفوظ مقام میں دفن کر دینا بھی جائز ہے لیکن جلا دینا آج کل زیادہ بہتر ہے کیوں کہ ایسا محفوظ مقام دستیاب ہونا مشکل ہے کہ وہاں آدمی یا جانور نہ پہنچ سکیں، اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا مصاحف کو جلانا اس کے جواز کی دلیل ہے۔ (کفایت المفتی: ۱/۱۲۷، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.