"یا رسول اللہ" کے ساتھ درود کا حکم:
Question
آج کل یہ طریقہ بہت عام ہو چکا ہے کہ جب کوئی حدیث بیان کی جاتی ہے اور اس میں آپ ﷺ کو مخاطب کرنے کا تذکرہ ہوتا ہے، مثلاً قالوا: یا رسول اللہ! تو اس کے بعد لوگ ﷺ کہتے ہیں یا کسی صحابی کو مخاطب کرنے کا تذکرہ ہوتا ہے، مثلاً: قال: یا عمر! تو اس کے بعد لوگ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں چونکہ یہ طریقہ صحابہ کرام اور محدثین و فقہاء سے منقول نہیں ہے اس لیے بعض علماء اس کو بدعت کہتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
حدیث کی کتابوں میں جہاں بھی یا رسول اللہ کا لفظ آیا ہے ان میں سے اکثر مواقع میں درود ثابت نہیں ہے بنا بریں نہیں کہنا چاہیے ہاں بدعت بھی نہیں کہیں گے کیوں کہ بعض مواضع میں درود ثابت ہے نیز صحابی کو مخاطب کرتے وقت بھی ترضی ثابت نہیں ہے ہاں مطلق صحابی کا نام آئے تو رضی اللہ تعالی عنہ قرآنِ کریم سے مستفاد ہے اور امت کا اس پر تعامل ہے اس لیے یہ صحیح ہے ۔ دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ ہوں:
صحاحِ ستہ (حدیث کی مشہور چھ کتابوں) میں لفظ "یا رسول اللہ" تقریباً ۳۱۷۷ مرتبہ آیا ہے، اور سوائے تین جگہوں کے اور کسی کے ساتھ درود مذکور نہیں ۔
(۱) نسائی شریف، باب ذکر الدعاء فی الاستسقاء، ج ۱/۱۷۲، سعید کمپنی، اس میں یا رسول اللہ کے بعد "صلی اللہ علیک" مرقوم ہے ۔
(۲) ابو داود شریف، باب حق السائل، ج: ۱/۲۳۵، ط: فیصل، میں یا رسول اللہ کے بعد صلی اللہ علیک، مذکور ہے ۔
(۳) ابو داود شریف، باب الامراض المکفرۃ للذنوب، ج ۲/٤٤۰، ط: فیصل، اس میں یا رسول اللہ کے بعد ﷺ موجود ہے ۔
صحاحِ ستہ کے علاوہ دیگر بعض کتبِ حدیث ملاحظہ کیجیے:
مصنف عبد الرزاق میں لفظ یا رسول اللہ تقریباً ۳٦۵ دفعہ آیا ہے ان میں سے صرف چار کے ساتھ درود مرقوم ہے ۔
(۱) ج ۳/۵٦٤، ادارۃ القرآن، لیکن اس کی تعلیق میں محدثِ کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے:
والصواب عندي قال: قلت يا رسول الله!
۔ یعنی درود کے بغیر صحیح ہے ۔
(۲) ج ۵/٤۱۵، رقم: ۹۷٤۸، ط: ادارۃ القرآن ۔
(۳) ج ۵/٤۹۱، رقم: ۹۷۸٤، ط: ادارۃ القرآن ۔
(٤) ج ٦/۸، رقم: ۹۸۲۹، ادارۃ القرآن ۔
المستدرک للحاکم میں تقریباً ۸۳۸ مرتبہ آیا ہے ان میں سے صرف ۱۲ مرتبہ درود کے ساتھ موجود ہے ۔
ج ۱/رقم: ۱۰۱۰، ۱۳۹۱، ۱۸٤٦، ۱۸۸۱ ۔
ج ۲/رقم: ۲۵۸۸ ۔
ج ۳/رقم: ۵۸۰۳، ٦٦۱۸ ۔
ج ٤/رقم: ٦۷۱٦، دو جگہ، ٦۸۱٦، ۷۱۸۵، ۷۸۸۷ ۔
مسند احمد بن حنبل میں تقریباً ۳۰۷۱ مرتبہ آیا ہے، ان میں سے صرف چھ مرتبہ درود کے ساتھ ہے ۔
ج ۱۲/رقم: ۷۲٤۲ ۔ (مؤسسۃ الرسالہ) ۔
ج ۱۷/رقم: ۱۱۱۲۳ ۔
ج ۱۸/رقم: ۱۱٤۷۷، ۱۱۸۵۳ ۔
ج ۱۹/رقم: ۱۲۰۱۸ ۔
ج ۲۰/۱۲۵٦۹ ۔
القول البدیع میں ہے:
وقد أطلق القدوري رحمه الله وغيره من الحنفية أن القول بوجوب الصلاة عليه كلما ذكر مخالف للإجماع المنعقد قبل قائله، لأنه لا يحفظ عن أحد من الصحابة أنه خاطب النبي ﷺ فقال: يا رسول الله صلي الله عليك.
قلت: سيأتي في حديث أبي مسعود في أوائل الباب الأول، قوله: فكيف نصلي عليك إذا نحن صلينا في صلاتنا، صلي الله عليك، وقول واثلة في أواخر الباب المذكور أيضاً: وأنا يا رسول الله من أهلك، صلي الله عليك. وكذا في حديث أم سنبلة لما أهدت اللبن للنبي ﷺ، فقال لها: ما هذا معك؟ قالت: لبن أهديته لك يا رسول الله صلي الله عليك، الحديث، أخرجه أبو إسحاق الحربي في "الهدايا" وغيره.
وفي حديث المسيء صلاته أنه قال في الثالثة: فعلمني يا رسول الله صلي الله عليك وسلم. أخرجه ابن ماجه من حديث عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة رضي الله عنه.
وفي حديث أيوب بن هانئ، عن مسروق، عن ابن مسعود رضي الله عنه: أنه ﷺ لما أتي قبر أمه وبكي، تلقاه عمر رضي الله عنه فقال: يا رسول الله صلي الله عليك ما الذي أبكاك؟ الحديث، أخرجه البيهقي في الدلائل.
وكذا عنده فيها من طريق ابن إسحاق في قصة تخييره ﷺ أصحابه لما بلغه مجيء المشركين إلى أحد أنهم قالوا له ﷺ: فإن شئت فاقعد صلي الله عليك.
وفيها أيضا في اول قصة تبوك: ان الجد بن قيس لما استأذن رسول الله ﷺ في التخلف عنها قال: فأذَن لي يا رسول الله صلي الله عليك؟
بل فيها أيضاً في وفد بني تميم من أول وفود العرب، قول قيس بن عاصم: يا رسول الله عليك السلام.
وكفي بدون هذا رداً. ووقع للقاضي أبي بكر ابن العربي في "شرح الترمذي" نحو ما وقع للقدوري، وذلك أنه قال: كان أصحابه إذا كلموه ونادوه لا يقول له أحد منهم: صلي الله عليك، وصار الناس اليوم يذكرونه إلا قالوا: صلي الله عليه، ثم قال: والسر فيه أن أولئك كانت صلاتهم عليه ومحبتهم له واتباعهم له وعدم مخالفتهم، ولما لم يتبعه اليوم أحد من الناس يعني غالباً وخالفه جميعهم في الأقوال والأفعال: خدعهم الشيطان بأن صلوا عليه في كل ذكر، وأن يكتبوه في كل رسالة، ولو أنهم يتبعونه ويقتدون به ولا يصلون عليه في ذكره، ولا في رسالة إلا حال الصلاة كانوا على سيرة السلف. (القول البديع: ص: ۷٦. ۷۸، مؤسسة الرسالة).
اس کی تعلیقات میں شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ نے ابن عربی کے کلام کو بعید قرار دیا ہے اور احادیث سے مزید ۹ مثالیں پیش فرمائی ہیں ۔ تطویل سے دامن بچاتے ہوے ترک کر دیا جاتا ہے وہاں ملاحظہ کر لی جائیں ۔ (تعلیقات القول البدیع، ص۷۸ ۔ ۸۱) ۔
فتاوی الشامی میں ہے:
قوله ويستحب الترضي للصحابة لأنهم يبالغون في طلب الرضاء من الله تعالى ويجتهدون في فعل ما يرضيه، ويرضون بما يلحقهم من الابتلاء من جهته أشد الرضاء، فهؤلاء أحق بالرضاء وغيرهم لا يلحق أدناهم ولو أنفق ملء الأرض ذهباً زيلعي. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵٤، سعيد).
البتہ کسی صحابی کا نام سننے پر رضی اللہ عنہ کہنے کے بارے میں کوئی حکم منقول نہیں ہے اس کے برخلاف درود شریف کے بارے میں قرآنِ کریم میں حکم وارد ہوا ہے:
يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليماً. [الأحزاب: ۵٦].
ترمذی شریف میں روایت ہے:
عن حسين بن على بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: البخيل الذي من ذكرت عنده فلم يصل علي. قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح غريب. (رواه الترمذي: ۲/۱۹٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.