موذی شخص کو سحر سے نقصان پہنچانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #5Urdu
Vol. 8باب (۱)ــــ: عملیات اور سحر سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر کوئی شخص انتہائی موذی اور مضر ہے تو سحر کے ذریعہ اس کو نقصان پہنچانا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

ایسے شخص کو سحر کے ذریعہ نقصان پہنچانا تو جائز نہیں ہے، البتہ جائز عملیات کے ذریعہ اس کے شر سے بچنے کی تدبیر کرنا جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

والسحر في نفسه حق أمر كائن إلا أنه لا يصلح إلا للشر والضرر بالخلق والوسيلة إلى الشر شر فيسير مذموماً. (فتاوى الشامي: ٤/۲٤۱، سعيد).
فتاوى الشامي
میں ہے:

قوله (التميمة المكروهة) أقول الذي رأيته في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية

وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك إنما التميمة: الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالى

قالوا: وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدري ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به. (فتاوى الشامي: ٦/۳٦۳، سعيد).
قال الشيخ على بن نايف الشحود في "المفصل في شرح حديث من بدل دينه فاقتلوه": وأما الأضرار التي تترتب على السحر الذي يكون بالوسائل الصحيحة كالأسماء الإلهية والأعمال الخالية من سب الدين أو إهانته، فإنها توجب تأثيم فاعلها إثماً كبيراً إن ترتب عليه ضرر، الخ. (۲/٤۸٦).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جنات و شیاطین کے شر سے تحفظ کے لیے جائز عملیات کرنا درست ہے، ان کے ذریعہ دوسروں کو ضرر پہونچانے کے لیے عملیات کرنا درست نہیں ، اس میں خطرات بھی ہیں، عملیات سے کسی کو مسخر کرنا و ماؤف کرنا درست نہیں ہے۔ اگر اعداء اللہ کے شر سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہو تو جائز عملیات کے ذریعہ بقصدِ تحفظ انتظام کرنا درست ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۷۵
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.