عادت سے زائد آنے والے خون کا حکم:
Question
ایک عورت کو چھ دن حیض کی عادت تھی مگر ایک مہینے تیرہ دن خون آیا پھر پاک ہو گئی تو اس کے ایام حیض کتنے ہوں گے اور پاکی کے کتنے دن شمار ہوں گے؟
Answer
حسبِ عادت صرف چھ دن حیض کے شمار ہوں گے باقی ایام استحاضہ (بیماری) کے ہوں گے ۔
ملاحظہ ہو حضرت مو لا نا اشرف علی تھانوی تحریر فرماتے ہیں:
کسی کو ہمیشہ تین دن یا چار دن حیض آتا تھا پھر کسی مہینے میں زیادہ آگیا لیکن دس دن سے زیادہ نہیں آیا تو وہ سب حیض ہے اور اگر دس دن سے بڑھ گیا تو جتنے دن پہلے سے عادت کے ہیں وہ حیض ہے باقی سب استحاضہ ہے ۔ (بہشتی زیور حصہ دوم ص
۵۷
) ۔
شامی میں ہے:
أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض يكون استحاضة. (فتاوى الشامي: ۱/۲۸۵).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة، أو النقصان، أو بالتقدم، أو التأخر أو بهما معاً انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقياً كان الدم أو حكمياً هذا إذا لم يجاوز العشرة فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة، هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۹).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.