نفاس کے چالیس دن مکمل ہو تے ہی حیض آنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #299Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۵): حیض اور نفاس کا بیان

Question

کیا چالیس دن نفاس کے بعد فوراً بلا طہر حیض آ سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

چالیس دن نفاس کے گذر جانے کے بعد حیض نہیں آ سکتا جب تک کہ کم از کم پندرہ دن طہر کے نہ گذرے جائیں اگر چالیس دن کے بعد بھی خون جاری ہے تو وہ دم استحاضہ ہے نہ کہ حیض ۔
رد المحتار میں ہے:

قوله والزائد على أكثره في حق المبتدئة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة. (رد المحتار: ۱/۲۸۵، سعيد).
وفي الهندية: لو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في اقل مدة الطهر فما رأت بعد الأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وفي الهندية: ص ٤۰: وإذا جاوز الأربعين ولها عادة في النفاس ردت إلى أيام عادتها. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۷).

وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:

وأكثره عند الحنفية والحنابلة: أربعين يوماً وما زاد عن ذلك فهو استحاضة، بدليل قول أم سلمة: كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله ﷺ أربعين يوماً وأربعين ليلة. رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۱/٤٦۷).

امداد الاحکام میں ہے:
پس صورت مذکورہ میں اس کا نفاس عادتِ سابقہ کے موافق شمار ہو کر باقی دم استحاضہ ہے حیض نہیں، کیونکہ نفاس کے بعد جب تک پندرہ دن پورے نہ گذر جائیں اس وقت تک حیض نہیں ہو سکتا، ہاں اگر نفاس کے پندرہ دن کے بعد بھی خون آتا رہا اور وہ تاریخیں حیض کی ہو تو اس کو حیض کہا جائے گا ۔ (امداد الاحکام:
۱
/
۳٦۳
) ۔
ان عبارات سے معلوم ہو گیا کہ چالیس دن نفاس کے گذرنے کے فوراً بعد حیض نہیں آ سکتا ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.