چار ماہ کا حمل ساقط ہوا اور دوسرا بچہ پیٹ میں ہے تو آنے والے خون کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #301Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۵): حیض اور نفاس کا بیان

Question

ایک عورت کے حمل پر چار ماہ گذرے تھے کہ اسقاط ہو گیا لیکن پتہ چلا کہ اس کے پیٹ میں دوسرا بچہ موجود ہے، اور اسقاط کے بعد سے خون بدستور جاری ہے، تو دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے یہ خون حیض شمار ہو گا یا استحاضہ یا نفاس؟

Answer

اس مسئلہ کی دو صورتیں ہیں (۱) اگر دوسرا بچہ پہلے بچے کی پیدائش سے چالیس دن کے اندر اندر پیدا ہو تو پہلے بچے کی ولادت سے چالیس دن تک نفاس شمار ہوگا باقی استحاضہ (۲) اور اگر دوسرا بچہ پہلے بچے کے چالیس دن بعد پیدا ہوا تو یہ خون استحاضہ ہے نفاس نہیں ہے ۔
رد المحتار میں ہے:

والمرئي عقيب الثاني إن كان في الأربعين فمن نفاس الاول والا فاستحاضة. (رد المحتار: ۱/ ۳۰۱).
قال في الطحطاوي: ما تراه عقب الثاني إن كان قبل الأربعين فهو نفاس للأول لتمامها واستحاضة بعد تمامها فتغسل وتصلي كما وضعت الثاني وهو الصحيح كذا في البحر. (الطحطاوي على الدر المختار ۱/۱۵٤).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.