مکمل نفاس کے گیارہ دن بعد آنے والے خون کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #297Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۵): حیض اور نفاس کا بیان

Question

ایک عورت نفاس کے چالیس دن مکمل کر کے پاک ہو گئی اس کے گیارہ دن بعد دو بارہ اس نے خون دیکھا تو کیا یہ خون حیض ہو گا یا استحاضہ؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اس خون کو استحاضہ شمار کیا جائے گا اس لیے کہ طہر کی اقل مدت دو حیضوں کے درمیاں یا نفاس اور حیض کے درمیاں پندرہ دن ہے پندرہ دن سے کم استحاضہ ہے حیض نہیں ہے ۔
الدر المختار میں ہے:

واقل الطهر بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشريو ماً) ولياليها إجماعا ولا حد لا كثره. (الدر المختار: ۱/۲۸۵).

رد المحتار میں ہے:

(قوله بين الحيضتين الخ) أي الفاصل بين ذلك ولم يذكر اقل الطهر الفاصل بين النفاسين وذلك نصف حول (قوله أو النفاس والحيض) هذا إذا لم يكن في مدة النفاس، لأن الطهر فيها لا يفصل عند الإمام سواء قل أو كثر فلا يكون الدم الثاني حيضاً. (رد المحتار: ۱/۲۸۵، سعيد)
۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.