ولادت سے پہلے آنے والے خون کا حکم:
Question
ایک عورت حاملہ تھی اس نے صبح کے وقت ولادت سے پہلے خون دیکھا، اس کے بعد خون نظر نہیں آیا پھر رات کو ولادت ہوئی، اس درمیان اس نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء نہیں پڑھی، تو کیا ان نمازوں کا چھوڑنا اس کے لیے صحیح تھا اور ان کی قضا لازم ہے یا نہیں؟
Answer
حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا، کیوں کہ حمل کی وجہ سے رحم دانی کا منہ بند ہو جاتا ہے اور ولادت کے بعد آنے والے خون کو نفاس کہا جاتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ولادت سے پہلے آنے والا خون استحاضہ ہے یہ مانعِ صلاۃ نہیں، لہٰذا اس کے لیے نمازوں کا چھوڑنا صحیح نہیں تھا، اب نفاس سے پاک ہونے کے بعد ظہر، عصر اور مغرب کی قضا ضروری ہے ہاں عشاء کی قضا نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو سنن دارمی میں روایت ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: إن الحبلى لا تحيض، فإذا رأت الدم، فليغتسل، ولتصلي. قال المحقق: الشيخ حسين سليم أسد: إسناده حسن من أجل سليمان بن موسي. (سنن الدارمي: ۱/٦٦۳، ط: دار المغني).
وفيه أيضاً: عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: في الحامل ترى الدم، قالت: لا يمنعها ذلك من صلاة. (سنن الدارمي: ۱/٦٦۰، ط: دار المغني).
امام سرخسی رحمه الله کی مبسوط میں مرقوم ہے:
ومن الدماء الفاسدة ما تراه الحامل فقد ثبت لنا أن الحامل لا تحيض، وذلك مروي عن عائشة رضي الله تعالى عنها، وعرف أنها إذا حبلت انسد فم رحمها فالدم المرئي ليس من الرحم فيكون فاسداً. (المبسوط: ۳/۱٤۹، ط: دار المعرفة، بيروت). (وكذا في الهداية: ۱/٦۹، المصباح، والمحيط البرهاني: ۱/۲۱۱، بيروت، والاختيار لتعليل المختار: ۱/۲۷، بيروت، وملتقى الأبحر: ۱/٤۵، دار البيروتي، وتبيين الحقائق: ۱/٦۷، القاهرة).
پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق صاحب علم تشریح الابدان میں لکھتے ہیں:
اگر فرٹیلائزیشن ہو جاتی ہے تو جنین کچھ خاص مادوں کے مخصوص مہیجی پیغامات جاری کرتا ہے جس کی وجہ سے ماں کو ماہواری آنا بند ہو جاتی ہے، یہی عموماً حمل کی پہلی علامت ہوتی ہے ۔ (علم تشریح الابدان، ص ۵۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.