کتے، بلیوں کو مارنے کا حکم:
Question
اگر کسی جگہ کتے، بلیاں زیادہ ہو جائیں اور حکومت کے اہل کار ان کو مار ڈالیں، تو یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ کتے، بلیوں کی تعداد زیادہ ہو جانے پر ضرر اور نقصان ہو اور حکومت کے اہل کار مار ڈالنا چاہیں تو یہ جائز ہے۔ ورنہ بلا ضرورت نہیں مارنا چاہیے۔
قال في الهندية: قرية فيها كلاب كثيرة ولأهل القرية منها ضرر يؤمر أرباب الكلاب أن يقتلوا الكلاب فإن أبوا رفع الأمر إلى القاضي حتى يلزمهم ذلك كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰).
وفي الدر المختار: وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة تضر. وقال في الشامية: قوله إذا لم تضر تقييد للنسخ ذكره في النهر أخذاً مما في الملتقط إذا كثرت الكلاب في قرية وأضرت بأهلها أمر أربابها بقتلها فإن أبوا رفع الأمر إلى القاضي حتى يأمر بذلك. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۷۰، سعيد).
لیکن بلا کسی عذر کے ویسے ہی نہیں مارنا چاہیے:
قال في الدر: لكن لا يحل قتل ما لا يؤذي ولذا قالوا: لم يحل قتل الكلب الأهلي إذا لم يؤذ والأمر بقتل الكلاب منسوخ كما في الفتح أي إذا لم تضر. (الدر المختار: ۲/۵۷۰، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے: بہتر یہ ہے کہ نہ مارا جائے لیکن اگر نقصان سے حفاظت مشکل ہو جائے تو جان سے مارنا درست ہے مگر ترسا ترسا کے مارنا برا ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
٦
/
۳۹۳
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.