حکم کے فیصلہ کو رد کرنے کا حکم:
Question
دو آدمیوں نے ایک مولوی صاحب کوکسی جھگڑے میں حکم (فیصل) تسلیم کر لیا، جب حکم نے فیصلہ کر لیا تو ایک فریق نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، کیا شرعاً ایک فریق کو انکار کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب دو آدمیوں نے ایک مولانا صاحب کو فیصل تسلیم کر لیا تو جب تک فیصلہ نہ کیا ہو ہر ایک کو رجوع کا حق ہے، لیکن جب مولانا صاحب نے فیصلہ کر دیا، تواب فریقین میں سے کسی کو رجوع کا حق شرعاً نہیں ہے۔ ہاں فیصل بننے کے وقت یعنی بوقتِ تحکیم اور بوقتِ فیصلہ اہلیتِ قضا شرط ہے، نیز فیصلہ کی بنیاد بینہ و اقرار یا انکار پر ہونی ضروری ہے۔
فی زماننا عام طور پر لوگ مولانا صاحب کو فیصل بناتے ہیں لیکن جب فیصلہ ان کے خلاف ہوتا ہے تو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، اور کورٹ میں جاتے ہیں، گویا فیصل بنانا ایک مذاق بن جاتا ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ بوقتِ فیصلہ کورٹ کا اسٹامپ پیپر استعمال کریں جس پر فریقین کے دستخط ہوں تا کہ بعد میں کسی قسم کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی طریقہ تھا۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مرقوم ہے:
وإذا نفذ حكمه لزمهما لصدور حكمه عن ولاية كاملة عليهما فقط لأنه لا يكون دون الصلح وبعد ما تم الصلح ليس لواحد أن يرجع. (فتح القدير: ۷/۳۱۷، دار الفكر).
وفي الاختيار: حكما رجلاً ليحكم بينهما جاز، ولا يجوز التحكيم فيما يسقط بالشبهة، ويشترط أن يكون من أهل القضاء، وله أن يسمع البينة ويقضي بالنكول والإقرار، فإذا حكم لزمهما، ولكل واحد منهما الرجوع قبل الحكم. (
الاختیار لتعلیل المختار: ۲/۹۹، بروت)۔
(وكذا في البحر الرائق: ۷/۲٦، والدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۲۹، ط: سعيد، والفتاوى الهندية: ۳ /۳۹۷، وتبيين الحقائق: ٤/۱۹۳، ط: إمدادية، ملتان).
اسلامی عدالت میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رقم طراز ہیں:
ثالث کا فیصلہ اسی فریق کے خلاف نافذ ہوگا جس نے ثالث کے فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہو، اور فیصلہ سے پہلے پہلے اپنی رضامندی سے رجوع نہیں کیا ہو۔ فیصلہ کے بعد فریقین میں سے کسی کو ثالث کے فیصلہ سے رجوع کا اختیار نہیں ہے۔ (اسلامی عدالت، جلدِ اول ص
۳۳۸
، ط: قاضی پبلشرز)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.