حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #77Urdu
Vol. 8باب (۱۲): امورِ سیاست اور قضا سے متعلق احکام کا بیان

Question

حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے گناہ ہو گا یا نہیں ؟ خصوصاً راستوں کے قوانین، بعض لوگ اپنے ملک میں تو پابندی کرتے ہیں لیکن دوسرے میں نہیں کرتے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک میں پابندی ضروری نہیں ہے۔ از روئے شرع کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ حکومت کے قوانین کی پابندی مباحات اور موافقِ شرع امور میں ضروری ہے چاہے اپنے ملک میں ہو یا دوسرے ملک میں، چاہے مسلم ملک ہو یا غیر مسلم، بصورتِ دیگر معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے گنہگار ہو گا، اور راستوں کے قوانین خود اپنی حفاظت کے لیے ہیں ان کی خلاف ورزی سے خود بھی مصیبت میں مبتلا ہو گا اور دوسروں کو بھی مصیبت میں گرفتار کرنے کا باعث بنے گا۔
ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں شیخ خالد الاتاسی لکھتے ہیں:

والأصل أن المرور في طريق المسلمين مباح بشرط السلامة بمنزلة المشي لأن الحق في الطريق مشترك بين الناس فهو يتصرف في حقه من وجه وفي حق غيره من وجه فالإباحة مقيدة بالسلامة. (شرح المجلة: ۳/٤۹٤، مادة: ۹۳۲).
بحوث في قضايا فقهية معاصرة
میں مرقوم ہے:

الأصل في الشريعة الإسلامية أنه لا يجوز لا حد أن يفعل فعلاً يضر بآخر، فإن أضر بفعله أحداً فالأصل أنه ضامن. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ۱/۲۸۹، مكتبة دار العلوم، كراتشي).
عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قضي أن لا ضرر ولا ضرار. (رواه ابن ماجه: ۲/۱٦۹، قديمي).

امراء کی اطاعت مباحات اور موافقِ شریعت امور میں ضروری ہے۔

قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾. (سورة النساء: ۵۹).
وقال الإمام القرطبي: وأما طاعة السلطان فتجب فيما كان له فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية. (الجامع لا حكام القرآن: ۵/۱٦۸، دار الكتب العلمية، بيروت، النساء: ۵۹).

فتاوی الشامی میں ہے:

قال في الظهيرية: وهو تأويل ما روي عن أبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله فإنهما فعلا ذلك لأن هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده ففعلا ذلك امتثالاً له لا مذهباً واعتقاداً، قال في المعراج: لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة. (فتاوى الشامي: ۲/۱۷۲، سعيد).
وفيه أيضاً: وتجب طاعة الإمام عادلاً كان أو جائراً إذا لم يخالف الشرع. (٤/۲٦۳، سعيد).
وفيه أيضاً: والأصل قوله تعالى: وأولي الأمر منكم، وقال ﷺ: اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع وروي مجدع، وعن ابن عمر رضي الله عنه أنه عليه الصلاة والسلام، قال: عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم مالم يأمركم بمنكر ففي المنكر لا سمع ولا طاعة. (فتاوى الشامي: ٤/۲٦٤ و ۲٦۵، سعيد).

احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
امورِ مباحہ میں حکومت کے قانون کی خلاف ورزی سخت گناہ ہے، علاوہ ازیں نفس یا عزت کو خطرہ میں ڈالنا جائز نہیں۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۲۱۷
)۔ ہاں خلاف شریعت امور میں جائز نہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.