ویلن ٹائنزڈے منانے کا حکم:
Question
مسلمانوں کو ویلن ٹائنزڈے (valentines day) منانا جائز ہے یا نہیں ؟ کیا اس دن شوہر اپنی بیوی کو ہدیہ، تحفہ دے سکتا ہے؟ اور اس کی بنیاد کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
اسلام اپنی تہذیب اور ثقافت میں یکتا اور انوکھا ہے وہ غیر اقوام کے ساتھ تشبہ اور ان کے دوش بدوش چلنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ اپنے ماننے والوں کو پاکیزہ اور صاف ستھری حسن معاشرت کی تعلیم دیتا ہے اور ہر قسم کے فواحش و معاصی کا سد باب کرتا ہے، بنا بریں غیر اقوام کی تقلید میں اس قسم کا دن منانا درست نہیں جن کی بنیاد عشق و معاشقہ اور زنا کاری پر استوار ہو۔
میاں، بیوی کا آپس میں اور دیگر رشتہ داروں سے حسن اخلاق سے پیش آنا اور آپس میں تحفے تحائف وغیرہ دینا یہ فقط اس دن پر موقوف نہیں ہے بلکہ وقتاً فوقتاً اس پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔
ویلن ٹائنزڈے کا مختصر پس منظر حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
ویلین ٹائنزڈے ہر سال ۱٤ فروری کو منایا جاتا ہے، اس کی ابتدا ایک مغربی عیسائی تہوار سے ہوئی جو ایک یا زائد ویلن ٹائنز نامی پادریوں کے اعزاز میں تھا، بہت سے قدیم مقتولین عیسائیوں کا نام ویلن ٹائنز تھا لیکن جن ویلن ٹائنز کے نام کے اعزاز میں ۱٤ فروری کا دن منایا جاتا ہے وہ روم اور ترنی کے ویلن ٹائنزہیں، روم کا ویلن ٹائنز ایک پادری تھا جو ۲٦۹ء میں مقتول ہوا، اور ترنی کا ویلن ٹائنز ایک بڑا پادری (اسقف اعظم) تھا جو ۲۷۳ء میں مقتول ہوا، ابتدا میں اس تہوار کا عشقی جذبات سے کوئی تعلق نہ تھا، بلکہ اس تہوار کی بنیاد ہی مذہبی پیشواؤں کی قربانیوں پر تھی۔
پھر اس کے بعد چودھویں صدی عیسوی کے ایک بڑے شاعر (Geoffrey chauser) نے عشقی جذبات اور محبت سے بھر پور اشعار کہے، اس کی وجہ سے یہ تہوار عشق و محبت کے پھندے میں پھنس گیا۔
پھر اٹھارہویں صدی عیسوی میں انگلینڈ میں یہ عشق و محبت کے تہوار میں بدل گیا جس میں عاشقین اپنی معشوقہ کو پھول وغیرہ ہدیے تحفے دیتے ہیں، بعد ازاں بیسویں اور اکیسویں صدی میں یہ رسم و رواج کی شکل اختیار کر کے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گیا۔ (ملخص از ویکی پیڈیا)۔
نبی پاک ﷺ نے غیر اقوام کی نقالی اور ان کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے:
وعن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من تشبه بقوم فهو منهم".
قال الشيخ الملا على القاري: أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار، فهو منهم، في الإثم والخير، قال الطيبي: هذا عام في الخَلق والخُلق والشعار ولما كان الشعار أظهر في التشبه. (مرقاة المفاتيح: ۷/۱۵۵، كتاب اللباس، ط: رشيدية).
نبی پاک ﷺ نے آپس میں ہدیہ، تحفہ دینے کی ترغیب فرمائی ہے:
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ، قال: "تهادوا تحابوا". رواه البخاري في الأدب المفرد، وأبو يعلي بإسناد حسن. (بلوغ المرام، ص ۹۳۵).
نیز نبی پاک ﷺ نے جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کا حکم فرمایا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: غفر لا مرأة مومسة مرت بكلب على رأس ركي يلهث قال: كاد يقتله العطش فنزعت خفها فأوثقته بخمارها فنزعت له من الماء فغفر لها بذلك. (صحيح البخاري، رقم: ۳۳۲۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.