کرسمس کے موقع پر گریٹنگ کارڈ دینے کا حکم:
Question
غیر مسلموں کو کرسمس کے موقع پر گریٹنگ کارڈ بھیجنا جائز ہے یا نہیں ؟ جب کہ اس پر کوئی مذہبی علامت نہ ہو اور نہ کرسمس منانے یا اس کی حمایت کا ارادہ ہو؟ فقہ کی کتاب کی درجِ ذیل عبارت سے اس کے جواز پر استدلال درست ہے یا نہیں ؟
إذا قال المسلم للذمي: أطال الله بقاء ك، قالوا: إن نوي بقلبه أن يطيل الله بقاء ك لعله أن يسلم أو يؤدي الجزية عن ذل وصغار لا بأس به لأن هذا دعاء له إلى الإسلام أو لمنفعة المسلمين. (الأشباه والنظائر: ۱: ۱۰٤، إدارة القرآن). بينوا توجروا.
Answer
وہ کفار جو اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ بر سر پیکار نہ ہوں ان کے ساتھ مدارات جائز ہے، ہاں مولاتِ قلبی جائز نہیں ہے، چنانچہ گریٹنگ کارڈ جو مصور نہ ہو اور نہ مذہبی کوئی علامت وغیرہ اس پر ہو تو اس کا بھیجنا مدارات کے تحت جائز ہے۔
البتہ ان کی مذہبی رسوم میں شرکت ناجائز ہے عام طور پر مسلمان ان کی مذہبی رسوم میں شرکت کرتے ہیں اور اس کو بھی مدارات کہتے ہیں یہ بہت بڑی نادانی ہے، جیسے ہمارے معاشرے میں پٹاخے وغیرہ میں ہندوؤں کے دوش بدوش ہوتے ہیں، اس سے مکمل احتراز لازم ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
ولو سلم على الذمي تبجيلاً يكفر، لأن تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسي يا أستاذ تبجيلاً كفركما في الأشباه وفيها: لو قال لذمي: أطال الله بقاء ك إن نوي بقلبه لعله يسلم أو يؤدي الجزية ذليلاً فلا بأس به. قوله: تبجيلاً، قال في المنح: قيد به لأنه لو لم يكن كذلك بل كان لغرض من الأغراض الصحيحة فلا بأس به ولا كفر. (فتاوى الشامي: ٦/٤۱۳).
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريباً كان أو بعيداً محارباً كان أو ذمياً وأراد بالمحارب المستأمن وأما إذا كان غير المستأمن فلا ينبغي للمسلم أن يصله بشيء كذا في المحيط. وذكر القاضي الإمام ركن الإسلام على السغدي: إذا كان حربياً في دار الحرب وكان الحال حال صلح ومسالمة فلا بأس بأن يصله كذا في التتارخانية، هذا هو الكلام في صلة المسلم المشرك. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۷).
(وكذا في البحر الرائق: ۸/۲۳۲، دار المعرفة).
وقال العلامة السرخسي: لا بأس بأن يصل المسلم المشرك قريباً كان أو بعيداً، محارباً كان أو ذمياً
(واستدل عليه بأحاديث منها): أنه بعث رسول الله ﷺ خمسمائة دينار إلى مكة حين قحطوا وأمر بدفع ذلك إلى أبي سفيان بن حرب وصفوان ابن أمية ليفرقا على فقراء أهل مكة فقبل ذلك أبو سفيان وأبي صفوان وقال: [ما يريد بهذا إلا أن يخدع شباننا] ولأن صلة الرحم محمود عند كل عاقل وفي كل دين والإهداء إلى الغير من مكارم الأخلاق، وقال ﷺ: بعثت لا تمم مكارم الأخلاق، فعرفنا أن ذلك حسن في حق المسلمين والمشركين جميعاً. (شرح السير الكبير للعلامة السرخسي: ۱/۱۰٦، باب صلة المشرك).
قال العلامة السيد أحمد الطحطاوي: وأما المداراة فهي بذل الدنيا ومنه حسن المعاشرة والرفق لا صلاح الدين أو الدنيا أو هما معاً وهي مباحة وربما استحبت. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۸٤، فصل في أوصاف الوضوء، ط: قديمي).
کفایت المفتی میں ہے:
مسلمانوں کا ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں سبیل لگانا یا پان وغیرہ تقسیم کرنا اگر ان کے تہواروں کی تعظیم و تکریم کے لیے ہو تو یہ کفر ہے اور قیامِ امن و باہمی رواداری کی نیت سے ہو اور ان کے مذہبی اعمال کی تحسین مقصود نہ ہو اور یہ کام ان کے خاص موقع سے علیحدہ راستے میں ہو تو مباح ہے اور اگر خاص موقع پر ہو تو مکروہ تحریمی یا حرام ہے مگر کفر نہیں ہے کفر تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اسے اچھا سمجھیں اور ان کے طرزِ عمل سے ان اعمال کی تصدیق اور تحسین ہوتی ہو۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۳۲٤
، دار الاشاعت)۔
اسلامک فقہ اکیڈمی کے اجلاس میں اس موضوع پر تفصیلی مقالات پڑھے گئے، جس کا خلاصہ اور ماحصل کتابی شکل میں منظر عام پر آ چکا ہے۔ اس کے کچھ ملخصات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
بعض مقالہ نگار حضرات ایسے بھی ہیں جو یہ رائے رکھتے ہیں کہ غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبار ک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ یکجہتی کے جذبہ سے اور خیرسگالی کی نیت سے اور تالیفِ قلب کے لیے ایسا کرنا بہتر ہے۔
بعض حضرات نے ایک دوسری بات کہی ہے اور وہ یہ کہ مبارک باد دعا نہیں ہے، دعا کے لیے لفظ آشیرواد آتا ہے، مبارک باد کی جگہ بدھائی کا لفظ استعمال کرنا زیادہ موزوں ہے، اگر ضرر یا تعلقات کی نا ہمواری کا اندیشہ ہو تو بدھائی وغیرہ کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بعض مقالہ نگار حضرات کچھ شرائط و قیود کے ساتھ ان کو مبارک باد دینے کو درست قرار دیتے ہیں، مثلاً:
(۱) سماجی اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ اگر وہ ہمارے تہواروں پر ہمیں مبارک باد دیتے ہیں توہم بھی ان کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دیں لیکن یہ کہ آدمی خود ان پر کوئی یقین نہ رکھتا ہو، مزید یہ کہ آیت: "
وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها"
کے عموم میں یہ چیز آ سکتی ہے۔
(۲) اگر احکامِ اسلام سے متصادم نہ ہوں اور ایسا کرنے سے تشابہ لازم نہ آتا ہو تو جائز ہے۔
(۳) ضرورت اور مجبوری کے تحت اس کو "
لكم دينكم ولي دين"
کے انداز میں مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(٤) غیر مسلم حضرات کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دینا اگر اس نیت سے ہو کہ مذہب کی بنیاد پر منافرت کا ماحول ختم ہوگا اور غیر مسلم سماج میں مسلمانوں کے تئیں محبت و ہم دردی کے جذبات پیدا ہوں گے تو جائز ہے۔
(۵) اسی طرح دفعِ ضرر کے واسطے یا اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقعِ ہدایت کے واسطے اگر کوئی مبارک باد پیش کرتا ہے تو جائز ہے۔ (غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل، ص: ۱۲۵۔ ۱۲۸، ط: ایفاپبلیکیشنز)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.