غیر مسلم کو قرآن شریف دینے کا حکم:
Question
کیا ہم غیر مسلم کو قرآن کریم کا مترجم نسخہ دے سکتے ہیں اگر وہ ہم سے طلب کرے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ غیر مسلم کو قرآنِ کریم کا مترجم نسخہ دینا درجِ ذیل دو شرطوں کے ساتھ جائز اور درست ہے ۔ (۱) غیر مسلم سے بے ادبی اور بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو ۔ (۲) طہارت کا لحاظ رکھتا ہو، اگر جنابت میں ہو تو غسل کر لے اور اگر غسل کیا ہوا ہو تو وضو کے لیے کہا جائے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
قال أبو حنيفة رحمه الله: أعَلِّمُ النصراني الفقه والقرآنَ لعله يهتدي ولا يمس المصحف وإن اغتسل ثم مس لا بأس كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۳).
(وكذا في الأشباه والنظائر: ۱/۱٦۸، والدر المختار: ۱/۱۷۷، سعيد، والبحر الرائق: ۸/۲۰۳).
بدائع الصنائع
میں ہے:
وروي عن أبي يوسف رحمه الله أنه لا يترك الكافر أن يمس المصحف لان الكافر نجس فيجب تنزيه المصحف عن مسه. وقال محمد: لا بأس به إذا اغتسل لان المانع هو الحدث وقد زال بالغسل وإنما بقي نجاسة اعتقاده وذلك في قلبه لا في يده. (بدائع الصنائع: ۱/۳۷، سعيد).
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
اگر غیر مسلم کے دل میں قرآن مجید کی عظمت ہو اور اس کی طرف سے اس بات کا اطمینان ہو کہ وہ اس کی بے ادبی نہیں کرے گا تو اس کو قرآن مجید دینا جائز ہے، ممکن ہے کہ اس کو ہدایت نصیب ہو جائے، مگر اس کو ہدایت کر دی جائے کہ یہ اللہ کا مقدس کلام ہے ناپاکی کی حالت میں اس کو چھونا اس کی عظمت کے خلاف ہے، لہذا ناپاکی کی حالت ہو تو غسل کر کے ورنہ وضو کر کے اس کا مطالعہ کیا جائے، اس کو وضو اور غسل کا طریقہ بھی بتلا دیا جائے، اس سے اس کے دل میں قرآن مجید کی عظمت پیدا ہوگی، ان شاء اللہ۔ (فتاوی رحیمیہ: 2/151، دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.