کافر کو جزاک اللہ خیراً کہنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 8 #141Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کافر کو جزاک اللہ خیراً کہنا یا اس کی کسی اچھی چیز کو دیکھ کر ما شاء اللہ کہنا درست ہے یا نہیں ؟

Answer

جزاک اللہ خیراً وغیرہ الفاظ کہنے کا مدار دراصل نیت پر ہے اگر یہ نیت کرے کہ اللہ تعالی اس کو ہدایت نصیب کرے اور خیر سے مراد ہدایت لے تو اس کی گنجائش ہے، نیز ما شاء اللہ تعجب کے لیے استعمال ہوتا ہے تو کافر کی کوئی اچھی چیز دیکھ کر ما شاء اللہ کہے تو کوئی حرج نہیں۔

قال في الدر المختار: لو قال لذمي "أطال الله بقاء ك" إن نوى بقلبه لعله يسلم أو يؤدي الجزية ذليلاً فلا بأس به. (الدر المختار: ٦/٤۱۳، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۸، وتحفة الملوك، ص ۱۹۱، رقم المسألة: ۳٤۱، والأشباه والنظائر: ۱/۳۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.