غیر مسلم کو ان کے تہوار میں مبارک بادی دینے کا حکم:
Question
کسی غیر مسلم کو Happy merry christmasکے ذریعہ مبارک بادی پیش کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جب کہ اس کے معنی مراد کا خلاصہ یہ ہے: "حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش مبارک"؟
بينوا توجروا.
Answer
فی زماننا یہ الفاظ عید مبارک کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور آپس میں کرسمس کے موقعہ پر بطورِ مبارک بادی کہے جاتے ہیں باقی اس کے دوسرے معنی متروک ہو چکے ہیں، اکثر لوگ جانتے بھی نہیں جیسے جنوری فروری اپنی اصل کے اعتبار سے اصنام و بتوں کے نام ہیں، لیکن مہینوں کے نام کے طور پر مستعمل ہیں اور یہ کفریہ معنی بالکل متروک ہیں، بنا بریں دوستی پالنے کے لیے تو درست ہے، البتہ دن کی تعظیم میں ایسے الفاظ کہنا درست نہیں۔ ہاں بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ابھی تک ان الفاظ سے صلیب کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے اس وجہ سے حتی الامکان ایسے الفاظ نہیں کہنے چاہیے۔
قال في الأشباه النظائر: واعلم أن اعتبار العادة والعرف ترجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلاً، فقالوا في الأصول في باب ما تترك به الحقيقة تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة
والمراد من الاستعمال نقل اللفظ من موضوعه الأصلي إلى معناه المجازي شرعاً وغلبة الاستعمال فيه، ومن العادة نقله إلى معناه المجازي عرفاً. (الأشباه والنظائر: ۱/۲٦۸، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية).
بغداد کی وجہ تسمیہ میں لکھا ہے کہ "بغ" بت کا نام تھا جس کی وہ پوجا کرتے تھے اور داد فارسی میں عطیہ کو کہتے ہیں یعنی بت کا عطیہ لیکن یہ معنی متروک ہو چکے ہیں اس لیے اس کا استعمال جائز ہے۔ تاریخ بغداد میں ہے:
بغداد وكان لهم صنم يعبدونه بالمشرق يقال له "البغ" فقال: بغ، داد (أعطاني الصنم)، والفقهاء يكرهون هذا الاسم من أجل هذا وسماها أبو جعفر مدينة السلام لأن دجلة يقال لها وادي السلام. (تاريخ بغداد: ۱/۵۸، ومثله في معجم البلدان: ۱/٤۵٦، وتهذيب الأسماء واللغات للامام النووي رحمه الله: ۱/۱۰۱۵).
لیکن اس دن کی تعظیم اور قلبی محبت سے ایسا کہنا کفر ہے:
والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز وإن قصد تعظيمه كما يعطيه المشركون يكفر. (الدر المختار: ٦/۷۵٤، سعيد).
اسلامک فقہ اکیڈمی کے اجلاس میں اکثر علمائے کرام اور مفتیانِ عظام نے اس مضمون پر تفصیلی مقالے تحریر فرما کر پیش کیے، بعد میں اس کے لبِ لباب کو کتابی شکل میں منظر عام پر لایا گیا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اسی کا کچھ خلاصہ ذکر کیا جائے، چنانچہ ملاحظہ کیجیے:
غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دینا:
بیشتر مقالہ نگار حضرات علماء کی رائے ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دینا درست نہیں ہے اس لیے کہ اس سے ان کے شرکیہ رسوم اور تہواروں کی تعظیم لازم آتی ہے۔
مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں :
بعض مقالہ نگار حضرات ایسے بھی ہیں جو یہ رائے رکھتے ہیں کہ غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ یکجہتی کے جذبہ سے اور خیرسگالی کی نیت سے اور تالیفِ قلب کے لیے ایسا کرنا بہتر ہے۔
بعض حضرات نے ایک دوسری بات کہی ہے اور وہ یہ کہ مبارک باد دعا نہیں ہے، دعا کے لیے لفظ آشیرواد آتا ہے، مبارک باد کی جگہ بدھائی کا لفظ استعمال کرنا زیادہ موزوں ہے، اگر ضرر یا تعلقات کی نا ہمواری کا اندیشہ ہو تو بدھائی وغیرہ کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بعض مقالہ نگار حضرات کچھ شرائط و قیود کے ساتھ ان کو مبارک باد دینے کو درست قرار دیتے ہیں، مثلاً:
(۱) سماجی اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ اگر وہ ہمارے تہواروں پر ہمیں مبارک باد دیتے ہیں توہم بھی ان کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دیں لیکن یہ کہ آدمی خود ان پر کوئی یقین نہ رکھتا ہو، مزید یہ کہ آیت: "
وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها"
کے عموم میں یہ چیز آ سکتی ہے۔
(۲) اگر احکامِ اسلام سے متصادم نہ ہوں اور ایسا کرنے سے تشابہ لازم نہ آتا ہو تو جائز ہے۔
(۳) ضرورت اور مجبوری کے تحت اس کو
"لكم دينكم ولي دين"
کے انداز میں مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(٤) غیر مسلم حضرات کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دینا اگر اس نیت سے ہو کہ مذہب کی بنیاد پر منافرت کا ماحول ختم ہوگا اور غیر مسلم سماج میں مسلمانوں کے تئیں محبت و ہم دردی کے جذبات پیدا ہوں گے تو جائز ہے۔
(۵) اسی طرح دفعِ ضرر کے واسطے یا اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقعِ ہدایت کے واسطے اگر کوئی مبارک باد پیش کرتا ہے تو جائز ہے۔ (غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل، ص:
۱۲۵
۔
۱۲۸
، ط: ایفاپبلیکیشنز)۔
ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب نے جواز میں ایک مقالہ لکھا ہے اور جواز کے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (
في فقه الأقليات المسلمة، مقالة: تهنئة أهل الكتاب بأعيادهم،
۱٤۵
ـ
۱۵۰
، دار الشروق).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.