گالی کا جواب گالی سے دینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 8 #145Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے یا کسی کافر نے کسی مسلمان کو ماں، بہن کی گالی دی تو اس کے جواب میں اس کو ماں بہن کی گالی دینا درست ہے یا نہیں ؟ اسی طرح ابتدا میں کوئی مسلمان کسی کافر کو گالی دے تو کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ابتدا میں کسی کو گالی دینا، چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم، بڑا گناہ اور ناجائز ہے اور یہ فسق و فجور کی علامت ہے، نیز اگر کوئی گالی دے تو اس کے جواب میں اسی کے مثل الفاظ کہنا جس سے حد لازم نہ آتی ہو اور بالکل فحش نہ ہو گنجائش ہے، بشرطیکہ حد سے تجاوز نہ کرے، ہاں معاف کر دینا اعلی درجہ ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ مسلمان کا گالی دینا فسق کی علامت ہے:

عن شقيق قال: قال عبد الله: قال النبي ﷺ: سباب المسلم فسوق وقتاله كفر. (رواه البخاري ۲/۱۰٤۸، ط: فيصل).
قال الله تعالى: ﴿وأن تعفو أقرب للتقوي﴾
اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب تک آدمی گالی کا جواب نہ دے فرشتہ اس کی طرف سے جواب دیتا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رجلاً شتم أبابكر والنبي ﷺ جالس، فجعل النبي ﷺ يعجب ويتبسم، فلما أكثر رد عليه بعض قوله، فغضب النبي ﷺ وقام، فلحقه أبو بكر، فقال: يا رسول الله! كان يشتمني وأنت جالس، فلما رددت عليه بعض قوله، غضبت وقمت، قال: إنه كان معك ملك يرد عنك، فلما رددت عليه بعض قوله، وقع الشيطان، فلم أكن لا قعد مع الشيطان، ثم قال: يا أبا بكر ثلاث كلهن حق: ما من عبد ظلم بمظلمة فيغضي عنها لله عزوجل، إلا أعز الله بها نصره، وما فتح رجل باب عطية، يريد بها صلة، إلا زاده الله بها كثرة، وما فتح رجل باب مسألة، يريد بها كثرة، إلا زاده الله عز وجل بها قلة. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: حسن لغيره. (أخرجه الإمام أحمد في مسنده: ۱۵/۳۹۰/۹٦۲٤).

البتہ اگر فحش الفاظ میں گالی دے مثلاً: ماں، بہن کی گالی دے تو اس کے جواب میں فحش گالی دینا جائز نہیں ، کیوں کہ یہ مومن کی شان اور اسلامی تہذیب و اخلاق کے خلاف ہے۔
مسلم شریف میں روایت ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: المستبان ما قالا فعلي البادئ ما لم يعتد المظلوم. (رواه مسلم: ۲/۳۲۱/۲۵۸۷، باب النهي عن السباب، قديمي).
قال الإمام النووي في شرح هذا الحديث: معناه أن إثم السباب الواقع من اثنين مختص بالبادي منهما كله إلا أن يتجاوز الثاني قدر الانتصار فيقول للبادي أكثر مما قال له وفي هذا جواز الانتصار ولا خلاف في جوازه وقد تظاهرت عليه دلائل الكتاب والسنة قال الله تعالى: ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل، وقال تعالى: والذين إذا أصابهم البغي هم ينتصرون، ومع هذا فالصبر والعفو أفضل قال الله تعالى: ولمن صبر وغفر إن ذلك لمن عزم الأمور، وللحديث المذكور بعد هذا ما زاد الله عبداً بعفو إلا عزاً

ولا يجوز للمسبوب أن ينتصر إلا بمثل ما سبه ما لم يكن كذباً أو قذفاً أو سباً لا سلافه فمن صور المباح أن ينتصر بياظالم يا أحمق أو جافي أو نحو ذلك لأنه لا يكاد أحد ينفك من هذه الأوصاف. (شرح صحيح مسلم: ۲/۳۲۱، قديمي).

اسلامی اخلاق میں سے یہ ہے کہ مسلمان کسی دوسرے کو لعن طعن نہ کرے اور نہ فحش کلامی کرے، نہ بد زبانی سے پیش آئے۔ ترمذی شریف میں ہے:

عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ليس المومن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذي. هذا حديث حسن غريب. (رواه الترمذي: ۲/۱۸، ط: فيصل).

ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن مومن کی میزان میں سب سے زیادہ بھاری اس کے اچھے اخلاق ہوں گے اور اللہ تعالی فحش کلامی کرنے والے اور بد زبانی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔ ترمذی شریف میں ہے:

عن أم الدرداء عن أبي الدرداء أن النبي ﷺ قال: ما من شيء أثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن وإن الله ليبغض الفاحش البذي. (رواه الترمذي: ۲/۱۸، ط: فيصل).

فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
جس لفظ پر حد لازم نہیں آتی ہو، بدلے میں ایسے لفظ کی گنجائش ہے، لیکن معاف کر دینا اعلی مقام ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲٤
/
۲۵۱
، جامعہ فاروقیہ)۔
شیخ سعدی رحمہ اللہ نے بہت خوب فرمایا:
بدی را بدی سہل باشد جزا

ژ

اگر مردی احسن الی من اسا
یعنی برائی کا بدلہ برائی سے دینا تو بہت آسان ہے ہاں اگر آپ مردِ کامل ہو تو برائی کرنے والے کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.