اذان کا جواب دینے کے بعد وقت ہو تو اس میں کلام کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #33Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اگر اتنی لمبی اذان دی جاتی ہو کہ جس میں جواب دینے کے بعد بہت وقت بچتا ہو کیوں کہ ایک کلمہ کے جواب میں تین سیکنڈ خرچ ہوتے ہیں اور مؤذن کی ادائیگی ۱۵/۲۰ سیکنڈ ہوتی ہے تو درمیان میں کوئی کلام کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

اصل چیز اذان کا جواب دینا ہے ۔ اسی وجہ سے فقہاء نے اذان کے وقت سلام کرنے سے منع کیا ہے کیوں کہ اجابت میں خلل واقع ہوگا ۔ لیکن اگر درمیان میں اتنا وقفہ ہے کہ جواب دینے کے بعد وقت بچ جاتا ہے تو اس وقفہ میں ذکر یا کوئی اور کلام کیا جا سکتا ہے ۔
بخاری شریف میں ہے:

عن النبي ﷺ قال: إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن. (رواه البخاري: ۱/۸٦)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
دنیا کی بات اثنائے سکوت مؤذن بھی درست ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ: ص ۲۹۰)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
کلمات کے درمیان وقفہ میں یہ امور یعنی سلام و جوابِ سلام کر لینا جواب دینے کے منافی نہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.