بوقتِ اذان سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #32Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اذان کے وقت آپس میں سلام کرنا درست ہے یا نہیں؟ نیز اگر کوئی سلام کرے تو جواب دینا ضروری ہے یا نہیں؟

Answer

بوقتِ اذان سامعین اذان کا جواب دیں گے، لہذا آپس میں کلام کرنا درست نہیں اور کوئی سلام کرے تو جواب دینا بھی ضروری نہیں ۔
شامی میں ہے:

قال في المعراج: وفي التحفة وينبغي للسامع أن لا يتكلم ولا يشتغل بشيء في حالة الأذان والإقامة ولا يرد السلام أيضاً لأن الكل يخل بالنظم، أقول: يظهر من هذا أن قوله لا يرد السلام ليس بواجب. (شامي: ۱/۳۷۱، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۱/۲٥۹، كوئٹه)

امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: سامعینِ اذان کو خواہ وہ اذان کا جواب دے رہے ہوں یا سکوت میں ہوں کسی آئندہ شخص کے سلام کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں اور کسی کو ایسے موقع پر سلام کرنا چاہیے یا نہیں؟
جواب: ایسے وقت میں سلام نہ کرنا چاہیے ۔ اور اگر سلام کہا ہو تو جو اذان کا جواب دے رہا ہے اس پر تو اس سلام کا جواب دینا واجب نہیں اور جو ساکت ہے ظاہر یہ ہے کہ اس پر بھی واجب نہیں ۔
لأن سماع الذكر كالذكر، كما في الدر المختار. (
امداد الفتاوی: ۱/۱۱۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.