نماز ادا کرنے کے بعد اذان ہونے پر جواب دینے کا حکم:
Question
ہم نے ظہر کی نماز وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے کسی وجہ سے پڑھی جب ہم فرض نماز سے فارغ ہوے تو ہماری مسجد میں اذان شروع ہوئی، اب اِس صورت میں ہمارے لیے اذان کا جواب دینا مسنون ہے یا نہیں؟ نیز جو عورتیں گھر پر نماز پڑھتی ہیں ان کو اذان کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟
Answer
فرض نماز سے فراغت کے بعد اذان شروع ہو تب بھی اذان کا جواب دینا مستحب ہے، اذان در حقیقت پورے دین کی طرف دعوت کی شکل ہے، جس نے نماز پڑھ لی وہ بھی اذان کا جواب دے، اور آنے والی نماز کی نیت کرے اور پورے دین جس میں فلاح اور کامیابی ہے اس کی دعوت کا عہد کرے کہ میں اس کو اپنا مشن بناؤں گا ۔ نیز عورتیں جو گھروں پر نماز پڑھتی ہیں ان کے لیے بھی اذان کا جواب دینا مستحب ہے ۔
احادیث میں نبی کریم ﷺ کا فرمان:
فقولوا: مثل ما يقول المؤذن "
یعنی مؤذن کے الفاظ دہراؤ، یہ مطلق ہے اور امر استحباب کے لیے ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن رسول الله ﷺ قال: إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن. (صحيح البخاري: ۱/۱۲٦/٦۱۱، باب ما يقول إذا سمع المنادي).
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں مشغول اذان کا جواب نہ دے، ہاں سلام پھیرنے کے بعد اذان کا جواب دے ۔ ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں مرقوم ہے:
باب ما يقول إذا سمع المنادي
فمن أسباب المنع: أن يكون في الخلاء، أو جماع أهله أو نحوها، ومنها أن يكون في صلاة، فمن كان في صلاة فريضة أو نافلة وسمع المؤذن لم يوافقه في الصلاة، فإذا سلم أتى بمثله. (عمدة القاري: ٤/۱٦۵، ط: دار الحديث ملتان، وكذا في البناية شرح الهداية: ۲/۱۰۹).
قال في رد المحتار: قوله من سمع الأذان يفهم منه أنه لو لم يسمع لصمم أو لبعد أنه لا يجيب وهو ظاهر الحديث الآتي إذا سمعتم الأذان، حيث علق على السماع وقد صرح بعض الشافعية بأنه الظاهر وبأنه يجيب في جميعه إذا لم يسمع إلا بعضه
تنبيه: هل يجيب بعد الفراغ من هذه المذكورات أم لا، ينبغي أنه إن لم يطل الفصل فنعم وإن طال فلا. (فتاوى الشامي: ۱/۳۹۷، سعيد).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
سوال: کیا عورتوں کو بھی اذان کا جواب دینا چاہیے؟
جواب: جی ہاں، مگر حیض و نفاس والی جواب نہ دیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۱۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (الفتاوی الہندیۃ: ۱/۳۸، مراقی الفلاح، ص ۱۱۰، و کتاب الفتاوی: ۲/۱۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.