نماز میں تاخیر کی وجہ سے اذان مؤخر کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #43Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

کیا اذان کا تعلق اول وقت سے ہے کہ جیسے ہی وقت ہو جائے اذان دینی چاہیے یا نماز سے ہے کہ اگر نماز میں تاخیر ہو تو اذان بھی تاخیر سے دے؟

Answer

اذان کا تعلق نماز سے ہے نہ کہ وقت سے لہذا اگر نماز تاخیر سے پڑھی جا رہی ہو تو اذان بھی تاخیر سے دی جائے گی اور اگر نماز عجلت سے ادا کی جا رہی ہے تو اذان بھی عجلت سے دی جائے گی مگر وقت کے داخل ہونے کے بعد اذان دے وقت سے پہلے اذان ادانہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر فأراد المؤذن أن يؤذن فقال: أبرد ثم أراد أن يؤذن فقال له: أبرد ثم أراد أن يؤذن فقال له: أبرد، وفي رواية للبخاري أيضا: أوقال: انتظر انتظر حتى ساوي الظل التلول فقال النبي ﷺ: إن شدة الحر من فيح جهنم. (بخاري شريف: ۱/۸٦، فيصل)

شامی میں ہے:
وحكم الأذان كالصلاة تعجيلاً وتأخيراً. (شامي: ۱/۳۸٤، سعيد)

در مختار میں ہے:

وهو سنة للرجال في مكان عال مؤكدة هي كالواجب في لحوق الإثم للفرائض الخمس في وقتها ولو قضاء لأنه سنة للصلاة حتى يبرد به لا للوقت. (الدر المختار: ۱/۳۸٤. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۱۹٤، قديمي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.