ولیمہ کی تاخیر کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #430Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۵): ولیمہ کا بیان

Question

ولیمہ کی تاخیر کب تک درست ہے؟

Answer

مسنون ولیمہ وہ ہے جو میاں بیوی کے ملنے کے بعد ہو، کیوں کہ اس کا اصل مقصد ایک حلال و جائز تعلق کا اعلان و اظہار ہے، جس رات بیوی کے ساتھ خلوت ہو اس دن یا اگلے دن ولیمہ کر لینا چاہیے، نیز تیسرے روز تک مؤخر کرنے کی بھی گنجائش ہے، لیکن تین دن سے زیادہ تاخیر درست نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:

ومنه ما رواه البيهقي من حديث أنس رضي الله عنه: أن رسول الله ﷺ قال: الوليمة أول يوم حق، والثاني معروف، والثالث رياء وسمعة، وقال صاحب التلويح: سنده صحيح فإن قلت: قد قال البيهقي: ليس هذا الحديث بقوي وفيه بكير بن خنيس تكلموا فيه، قلت: أثني عليه جماعة منهم أحمد بن صالح العجلي، قال: كوفي ثقة، وقال البرقي عن يحيى بن معين: لا بأس به، وخرج الحاكم حديثه في المستدرك. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ۱٤/۱۳۰، باب إجابة الوليمة، ملتان).

عالمگیری میں ہے:

ولا بأس بأن يدعو يومئذٍ من الغد وبعد الغد ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۳، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
دعوتِ ولیمہ شادی اور رخصتی سے تین روز تک ہوتی ہے، اس کے بعد نہیں۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۱٤۱، مبوب و مرتب)۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
ولیمہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جس دن میاں بیوی کی خلوت ہوئی ہو، اس کے دوسرے دن دعوت کر دی جائے، حضرت انس
رضي الله عنه
کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح ہوا تو دوسرے دن آپ ﷺ نے لوگوں کو مدعو کیا اور کھانا کھلایا، (صحیح بخاری) دوسرے دن یا تیسرے دن بھی کھلانے کی گنجائش ہے، اس سے زیادہ تاخیر ثابت نہیں۔ (کتاب الفتاوی: ٤/٤۲۰، نکاح میں دعوت اور ولیمہ کے احکام)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.