عذر کی وجہ سے ایک ہفتہ کے بعد ولیمہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #431Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۵): ولیمہ کا بیان

Question

ایک شخص کا نکاح ہوا اور بیوی کے ساتھ ملاپ بھی ہو گیا، لیکن بعض عوارض کی وجہ سے ولیمہ نہیں کر سکا، ایک ہفتہ کے بعد ولیمہ کی دعوت کرنا چاہتا ہے تو کیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟ کیا سنت ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

Answer

ولیمہ کا اصل مسنون وقت ملاپ کے بعد ہے، لیکن اگر کسی عارض کی وجہ سے چند دن کے بعد یا ہفتہ کے بعد ولیمہ کیا تب بھی سنت ادا ہو جائے گی، اس لیے کہ بعض روایات سے چند دن کے بعد ولیمہ کا ثبوت ملتا ہے، اور فقہاء نے جو لکھا ہے کہ:
ولابأس بأن يدعو يومئذٍ من الغد وبعد الغد ثم ينقطع العرس والوليمة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۳).

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل تین دن کھلانے کے بعد ولیمہ ختم ہوا لیکن ولیمہ ہی نہیں کیا یا بعض عوارض کی وجہ سے تاخیر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
بخاری شریف میں ہے:

حدثنا محمد بن كثير عن سفيان عن حميد الطويل قال: سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قدم عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه فأخي النبي ﷺ بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري وعند الأنصاري امرأتان فعرض عليه أن يناصفه أهله وماله فقال: بارك الله في أهلك ومالك دلوني على السوق فأتي السوق فربح شيئاً من أقط وشيئاً من سمن فرأه النبي ﷺ بعد أيام وعليه وضر من صفرة، فقال: مهيم يا عبد الرحمن فقال: تزوجت أنصارية، قال: فما سقت قال: وزن نواة من ذهب قال: أو لم ولو بشاة. (رواه البخاري: ۲/۷۵۹، باب قول الرجل لأخيه انظر أي زوجتي شئت، فيصل).

سنن کبری میں ہے:

عن أيوب عن محمد قال: حدثتني حفصة أن سيرين عرس بالمدينة فأولم فدعا الناس سبعاً وكان فيمن دعا أبي بن كعب رضي الله عنه فجاء وهو صائم فدعا لهم بخير وانصرف. وكذا قاله حماد بن زيد عن أيوب سبعاً إلا أنه لم يذكر حفصة في إسناده. وقال معمر عن أيوب ثمانية أيام والأول أصح. (السنن الكبرى للبيهقي: ۷/۲٦۱، باب أيام الوليمة، دار المعرفة).

حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله نے بھی اعلاء السنن میں باب قائم کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو :

باب جواز الوليمة إلى أيام إن لم يكن فخراً

عن حفصة بنت سيرين قالت: لما تزوج أبي دعا الصحابة سبعة أيام

(إعلاء السنن: ۱۱/۱۳، إدارة القرآن).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.