معذور کا شرعی حکم:

5 min readFatwa Vol 2 #368Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٤): مریض اور معذور کی نماز کا بیان

Question

ایک شخص کو خروجِ ریح کا عارضہ ہے وضوء کے بعد ۵ منٹ سے زیادہ اس کا وضوء نہیں رہتا اور وہ چاہتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم معلوم کرے اور قرآن کی تلاوت سنن و نوافل وغیرہ ادا کرے چند سالوں سے علاج معالجہ بھی کیا لیکن مفید ثابت نہیں ہوا لہذا اس بارے میں حکم شرعی سے مطلع فرمائیں؟

Answer

اگر ایک مرتبہ کسی نماز کا کامل وقت اس حالت میں گذر جائے کہ خروجِ ریح مسلسل رہے یعنی اتنی دیر کے لیے بھی بند نہ ہو کہ وہ وضو کر کے وقتیہ نماز پوری کر س کے تب تو یہ شخص معذور ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ ہر وقت کے لیے اس کے ذمہ وضو ضروری ہے اس وضو سے فرض، سنن و نوافل، تلاوتِ قرآن، اداء، قضاء جو دل چاہے پڑھتا رہے خروجِ ریح ناقض وضو نہیں ہوگا، وقت کا نکلنا اس کے حق میں ناقضِ وضو ہے، ہر وقت کے لیے علیحدہ وضو ضروری ہے ۔
اور یہ شخص معذور رہے گا جب تک کہ کسی ایک نماز کا کامل وقت عذر سے خالی نہ گذر جائے یعنی معذور رہنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ عذر مسلسل رہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر نماز کے کامل وقت میں ایک دو مرتبہ عذر کا تحقق ہو جائے اور جب ایسی حالت آ جائے گی کہ کامل وقت ایک مرتبہ بھی عذر سے خالی گذر جائے گا تو یہ شخص معذور نہ رہے گا اور کسی کامل نماز کا وقت ایسا نہیں گذرے کہ اس کو عذر سے خالی رہ کر نماز کا ادا کرنا ممکن ہو، بلکہ اتنی گنجائش مل جاتی ہے کہ ہر وقت میں نماز بلا عذر ادا کر سکتا ہے تو یہ معذور نہیں ہے، خروجِ ریاح اس کے حق میں ناقضِ وضو ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۷/٥
٤٦، باب صلاۃ المریض، جامعہ فاروقیہ ۔ و بہشتی زیور
۷
٤ کتاب الطہارۃ)
شرح معانی الآثار میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن فاطمة بنت أبي حبيش رضي الله تعالى عنها أتت النبي ﷺ فقالت إني أحيض الشهر والشهرين فقال رسول الله ﷺ إن ذلك ليس بحيض وإنما ذلك عرق من ذلك فإذا أقبل الحيض فدعي الصلاة وإذا أدبر فاغتسلي لطهر ثم توضئي عند كل صلاة. (شرح معاني الآثار: ۱/۸۰، باب المستحاضة كيف تطهر للصلاة)

ا س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معذور شخص ہر نماز کے وقت وضو کرے گا ۔
در مختار میں ہے:

وصاحب عذر من به سلسل بول لا يمكنه إمساكه أو استطلاق بطن أو انفلات ريح

إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث ولو حكماً لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم وهذا شرط العذر في حق الابتداء وفي حق البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ولو مرة وفي حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع تمام الوقت حقيقة لأنه الانقطاع الكامل ونحوه لكل فرض، اللام للوقت كما في لدلوك الشمس ثم يصلي به فيه فرضاً ونفلاً

فإذا خرج الوقت بطل

وفي الشامي: (قوله أو نفلات ريح) هو من لا يملك جمع مقعدته لاسترخاء فيها نهر. (قوله ولو حكماً) أي ولو كان الاستيعاب حكماً بأن انقطع العذر في زمن يسير لا يمكنه فيه الوضوء والصلاة فلا يشترط الاستيعاب الحقيقي في حق الابتداء كما حققه في الفتح والدرر

(قوله اللام للوقت) أي فالمعني لوقت كل صلاة بقرينة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل فلا يجب لكل صلاة

قال في الإمداد: وفي شرح مختصر الطحاوي: روى أبو حنيفة رحمه الله عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ قال لفاطمة بنت أبي حبيش رضي الله تعالى عنها "توضئي لوقت كل صلاة". (الدر المختار مع الشامي: ۱/۳۰٦، أحكام المعذور، سعيد).
(وكذا في إمداد الفتاح: ۱٥۲. ۱٥٤، بيروت. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۱٤۹، قديمي. وكذا في المبسوط: باب المسح على الخفين، إدارة المعارف. وفي مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: فصل المستحاضة ومن به سلسل بول. وفتاوى دار العلوم ديوبند: ٤/٤٤۲، مدلل ومكمل، دار الاشاعت)

تنبیہ: معذور کے احکام مشکل اور دقیق ہیں، لہذا معذور ہونے اور نہ ہونے میں بہشتی زیور کو مقامی علماء سے سمجھنے کی کو شش کریں یا اگر صلاحیت ہو تو خود سمجھنے کی کو شش کر لیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.