دماغی مریض کی فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #471Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۸): مسائل شتیٰ نماز کے متفرق مسائل

Question

ایک شخص کی نانی کا انتقال ہوا گذشتہ تین سالوں سے انھیں دماغ کی کمزوری کی شکایت تھی اور اس حد تک سرایت کر چکی تھی کہ ۵ منٹ پہلے کیا ہوا کام بھی یاد نہیں رہتا تھا اس وجہ سے کافی عرصہ سے انھوں نے نمازیں نہیں پڑھی تھی، اب ان کے انتقال کے بعد فوت شدہ نمازوں کا فدیہ لازم ہے یا نہیں؟ اور اس کی ادائیگی کی کیا شکل ہو گی؟

Answer

دماغی مریض کے بالکل ہوش و حواس نہ رہیں اور یہ کیفیت مسلسل ایک دن یا اس سے زیادہ دن تک ہو تو نماز کی قضاء نہیں ہے اور نہ فدیہ وغیرہ لازم ہے ۔ لیکن صورتِ مسئولہ میں بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیفیت نہیں تھی یعنی نماز کے وقت میں صحیح طور پر نماز پڑھ سکتی تھی تو نماز پڑھنا لازم تھا نہ پڑھنے پر قضاء لازم تھی اب چونکہ انتقال ہو چکا ہے لہذا فدیہ ادا کیا جائے ہر نماز کا علیحدہ علیحدہ یعنی رات دن کی کل ۵ نمازوں کا وتر کے ساتھ اور فدیہ وہی ہے جو صدقۃ الفطر میں ادا کیا جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ومن أغمي عليه خمس صلوات أو دونها قضي وإن كان أكثر من ذلك لم يقض وهذا استحسان، والقياس أن لا قضاء عليه إذا استوعب الإغماء وقت صلاة كاملاً

وفي فتح القدير: والقياس أن لا

وهو قول الشافعي رحمه الله والمالك رحمه الله وتوسط أصحابنا فقالوا: إن كان أكثر من يوم وليلة سقط القضاء وإلا وجب، والزيادة على يوم وليلة من حيث الساعات وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله فإذا زاد على الدورة ساعة سقط، وعند محمد رحمه الله من حيث الأوقات فإذا زاد على ذلك وقت صلاة كامل سقط وإلا لا، وهو الأصح تخريجاً

عن ابن عمر رضي الله عنه قال في الذي يغمي عليه يوماً وليلة قال: يقضي

وقال عبد الرزاق: أخبرنا الثوري عن ابن أبي ليلي عن نافع أن ابن عمر ﷺ أغمي عليه شهراً فلم يقض ما فاته. (فتح القدير مع الهداية: ۲/۹، دار الفكر. وكذا في بدائع الصنائع: ۱/٥٦۱، قضاء الفوائت، سعيد. وكذا في المبسوط: ۱/۲۱۷ باب صلاة المريض. وكذا في الدر المختار: ۱/۳٥٦، سعيد. والبحر الرائق: ۲/۱۱٥، باب صلاة المريض. كوئتة)

در مختار میں ہے:

ولو مات و عليه صلوات فائتة وأوصي بالكفارة يعطي لكل صلاة نصف صاع من بر كالفطرة وكذا حكم الوتر وال صوم. (الدر المختار ۲/۷۲، باب قضاء الفوائت، سعيد)

مراقی الفلاح میں ہے:

فيخرج عنه وليه

لصوم كل يوم

وصلاة كل وقت من فرض اليوم والليلة حتى الوتر

نصف صاع من بر

أو قيمته وهي أفضل لتنوع حاجات الفقير، وإن لم يوص وتبرع عنه وليه أو أجنبي جاز إن شاء الله تعالى. وفي الطحطاوي: (لتنوع حاجات الفقير) فإنه قد يكون مستغنياً عن هذه الأعيان ويحتاج إلى الدراهم ليصرفها في حاجاته. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ٤۳۸، قديمي كتب خانه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.