معذور شخص کی نماز کا حکم:

7 min readFatwa Vol 2 #369Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٤): مریض اور معذور کی نماز کا بیان

Question

(۱) میرا ہاتھ کٹ گیا میں نے زخم کو صاف کیا یہاں تک کہ مجھے اطمینان ہو گیا کہ زخم خشک ہو گیا اور خون بالکل نہیں پھر میں نے وضو کیا اور زخم خشک ہونے کے بعد اس پر پلستر لگایا پھر میں جمعہ کے لیے گیا پھر دو گھنٹے کے بعد پلستر نکالا تو اس پر کچھ خون کے اثرات نظر آئے کیا میرا جمعہ صحیح ہوا؟
(۲) کیا یہ صحیح ہوتا کہ زخم صاف کر کے اس پر پلستر لگا کر مسح کر لیتا؟ کیا زخم سے خون کا بند ہونا ضروری ہے ایسے موقع پر آدمی کیا کرے؟
(۳) میں نے قرآن پڑھنے کا ارادہ کیا لیکن زخم پر خون کے اثرات کی وجہ سے میرا وضو نہ تھا جب بھی ٹیشو سے زخم کو پونچھتا تو ٹیشو پر خون کے اثرات نظر آتے لہذا میں نے کاغذ کی مدد سے قرآن غلاف سے نکالا اور بغیر ہاتھ لگائے پڑھنا شروع کیا اور اوراق کو قلم کے ذریعہ پلٹا کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟
(٤) مجھے کچھ ہدایات کریں تاکہ آئندہ ایسا مسئلہ پیش آئے تو کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

زخم کی پٹی پر خون لگے لیکن باہر ظاہر نہ ہو یعنی بہنے والا نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا لہذا صورتِ مسئولہ (۱) میں زخم صاف کر کے اس کو دھو کر وضو ء کرنے کے بعد پٹی لگائی پھر دو گھنٹے کے بعد خون کے اثرات پلستر پٹی پر لگے چونکہ یہ دمِ سائل کے حکم میں نہیں ہے اور نہ باہر ظاہر ہوے لہذا وضو باقی تھا اور جمعہ کی نماز درست ہو گئی ۔
(۲) خون کو دھویا گیا لہذا پٹی لگانے کے بعد مسح درست ہے اور ایسے موقع پر جب خون نکل آیا پھر اس کو دھو لیا اور صاف کر لیا پھر پلستر پٹی لگا دی تو نماز وغیرہ سب درست ہے جب تک خون باہر نظر نہ آئے وضو باقی رہتا ہے اور عام طور پر جب پلستر پٹی دبا کر زخم پر لگا دے تو خون بند ہو جاتا ہے اثرات پٹی پر لگے وہ مضر نہیں ہاں دوسری نماز کا وقت آ جائے اور خون اندر زیادہ نظر آنے لگے تو پٹی نکال کر پھر صاف کرے اور وضو کر لے پھر پٹی لگا لے ۔
(۳) زخم پر پٹی نہیں ہے اور خون کے اثرات نظر آتے ہیں اس کو با ر بار ٹیشو سے پونچھا تو دیکھا جائے گا اگر ایک ہی مجلس میں سب کو جمع کرے اور اتنا ہو جائے کہ اگر نہ پونچھتے تو یقیناً زخم کے منھ سے بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا اور آپ کا قرآن پڑھنا بغیر چھوئے اور صفحات کو قلم سے پلٹنا درست ہے، بے وضو قرآن کو ہاتھ لگانا درست نہیں، اور اگر ایک ہی مجلس میں سب کو جمع کرنے سے بہنے کے بقدر نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹا لہذا قرآن کو ہاتھ لگانا بھی درست ہے ۔
(٤) پھر اگر آئندہ اس قسم کا عذر پیش آ جائے مثلا زخم سے خون رستا رہتا ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ پلستر پٹی لگا لے تو ان شاء اللہ بند ہو جائے گا اور پٹی پر اثرات لگے جب تک زیادہ نظر نہ آئے مضر نہیں وضو باقی ہے اور اگر زیادہ رستا رہتا ہے اور ایک نماز کا پورا وقت اسی طرح نکل جائے کہ نماز پڑھنے کا بھی موقع نہ ملے تو آپ معذور کے حکم میں ہے لہذا آئندہ وقت میں ایک مرتبہ وضو کرے تو کافی ہے جب تک وقت باقی ہے آپ کا وضو بھی باقی سمجھا جائے گا اور وقت نکل جائے تو دوسری نماز کے لیے نیا وضو کرے اسی طرح کرے جب تک یہ عذر باقی ہے ۔
شامی میں ہے:

(قوله لو مسح الدم كلما خرج الخ) وكذا إذا وضع عليه قطناً أو شيئاً آخر حتى ينشف ثم وضعه ثانياً وثالثاً فإنه يجمع جميع ما نشف فإن كان بحيث لو تركه سال نقض وإنما يعرف هذا بالاجتهاد وغالب الظن وكذا لو ألقي عليه رماداً أو تراباً ثم ظهر ثانياً فتربه ثم وثم فإنه يجمع قالوا وإنما يجمع إذا كان في مجلس واحد مرة بعد أخري فلو في مجالس فلا، تاترخانية، ومثله في البحر.
أقول: و عليه فما يخرج من الجرح الذي ينزّ دائماً وليس فيه قوة السيلان ولكنه إذا ترك يتقوى باجتماعه ويسيل عن محله فإذا نشفه أو ربطه بخرقة وصار كلما خرج منه شيء تشرّبته الخرقة ينظر إن كان ما تشرّبته الخرقة في ذلك المجلس شيئاً فشيئاً بحيث لو ترك واجتمع أسال بنفسه نقض وإلا لا ولا يجمع ما في مجلس آخر وفي ذلك توسعة عظيمة لا صحاب القروح ولصاحب كي الحمصة فاغتنم هذه الفائدة. (شامي: ۱/۱۳٥، سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن كان رأس الجرح مبتلا بالدم لا يعيد شيئاً منها هكذا في المحيط ولو كانت جراحة فربطها فابتل ذلك الرباط إن نفذ البلل إلى الخارج نقض الوضوء وإلا فلا، ولو كان الرباط ذا طاقين فنفذ البعض دون البعض ينتقض الوضوء كذا في التتارخانية في نواقض الوضوء. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٦)
وإنما يمسح إذا لم يقدر على غسل ما تحتها ومسحه بأن تضرر بإصابة الماء أو حلها هكذا في شرح الوقاية وإن كان يضره الغسل بالماء البارد ولا يضره الغسل بالماء الحار يلزمه الغسل بالماء الحار هكذا في شرح الجامع الصغير لقاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٥)

شامی میں ہے:

(قوله ولو شد الخ) قال في البدائع ولو ألقي على الجرح الرماد أو التراب فتشرّب أو ربط عليه رباطاً فابتل الرباط ونفذ قالوا يكون حدثاً لأنه سائل وكذا لو كان الرباط ذا طاقين فنفذ إلى أحدهما لما قلنا، قال في الفتح: ويجب أن يكون معناه إذا كان بحيث لولا الرباط سال، لأن القميص لو تردد على الجرح فابتل لا ينجس ما لم يكن كذلك لأنه ليس بحدث أي وإن فحش كما في المنية. (شامي: ۱/۱۳۹، سعيد)

تقریراتِ رافعی میں ہے:

(قوله فابتل الرباط ونفذ) ولو لم ينفذ من الرباط لا ينتقض، من السندي انتهي. (تقريراتِ الرافعي على هامش الشامي: ۱/۱۹، سعيد)

تنبیہ: معذور کے احکام مشکل اور دقیق ہیں، لہذا معذور ہونے اور نہ ہونے میں بہشتی زیور کو مقامی علماء سے سمجھنے کی کو شش کریں یا اگر صلاحیت ہو تو خود سمجھنے کی کو شش کر لیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.