عصر کی نماز کو اتنا مؤخر کرنا کہ وقت مکروہ کا شبہ ہونے لگے:

2 min readFatwa Vol 2 #8Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱): اوقاتِ نماز کا بیان

Question

ہمارے یہاں عصر کی نماز پانچ بجے ہوتی ہے اور آج کل غروب تقریباً ۲۵: ۵ پر ہے اور کافی مسبوق ہوتے ہیں تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ وقت صحیح ہے یا مکروہ یا اس سے جلدی نماز پڑھنا چاہیے تاکہ مکروہ سے بچے؟

Answer

تاخیر عصر مستحب ہے لیکن اتنی تاخیر کرنا کہ وقت مکروہ کا شبہ ہونے لگے درست نہیں ہے اور عام طور پر غروب سے ایک گھنٹہ قبل پڑھنا وقت مکروہ سے بہت پہلے ہے لہذا اس میں کوئی حرج نہیں ۔ وقت مکروہ اس کے بہت بعد شروع ہوتا ہے البتہ صورت مسئولہ میں ۵ بجے شروع کرنا اور تقریباً ۵ بج کر ۱۰ منٹ پر ختم کرنا کراہت کے قریب ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وتأخير عصر صيفاً وشتاءً توسعة للنوافل ما لم يتغير ذكاء بأن لا تحار العين فيها في الأصح. قوله في الأصح صححه في الهداية وغيرها وفي الظهيرية: إن أمكنه إطالة النظر فقد تغيرت وعليه الفتوى وفيها: وينبغي أن لا يؤخر تأخيراً لا يمكن المسبوق قضاء ما فاته. وقيل حد التغير أن يبقى للغروب أقل من رمح وقيل أن يتغير الشعاع على الحيطان كما في الجوهرة، ابن عبد الرزاق. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۳٦۷، سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ويستحب تأخير العصر في كل زمان ما لم تتغير الشمس والعبرة لتغير القرص لا لتغير الضوء فمتى صار القرص بحيث لا تحار فيه العين فقد تغير وإلا لا كذا في الكافي. وهو الصحيح كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۱/٥۲. وكذا في شرح المنية: ص ۲۳۳، سهيل).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.