دو مؤذنوں کے اذان کہنے سے اذان کی سنت ادا ہونے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #166Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

بعض یورپی ممالک میں دو مؤذن اذان دیتے ہیں، اس طرح کہ ایک مؤذن اللہ اکبر کہتا ہے اور دوسرا اشہد ان لا الہ الا اللہ کہتا ہے، اسی طرح باری باری دونوں مل کر اذان مکمل کرتے ہیں، کیا اس طرح اذان دینے سے اذان صحیح ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

اذان دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی مؤذن اذان دے یعنی جو شروع کرے وہی پوری اذان دے کر ختم کرے، ہاں اگر کسی وجہ سے وہ اذان پوری نہ کر سکے تو دوسرا مؤذن ابتداء سے شروع کرے اور پوری اذان مکمل کرے، اگر دوسرا مؤذن پہلے کی باقی ماندہ اذان کو مکمل کرے گا تو اذان صحیح نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:

أقول: يظهر لي أن المراد بالوجوب اللزوم في تحصيل سنة الأذان، وأن المراد أنه إذا عرض للمؤذن ما يمنعه عن الإتمام وأراد آخر أن يؤذن يلزمه استقبال الأذان من أوله إن أراد إقامة سنة الأذان، فلو بنى على ما مضى من أذان الأول لم يصح فلذا قال في الخانية: لو عجز عن الإتمام استقبل غيره، أي لئلا يكون آتياً ببعض الأذان. (فتاوى الشامي: ۱/۳۹۳، سعيد).
قال في البحر: وفي الخلاصة خمس خصال إذا وجدت في الأذان والإقامة وجب الاستقبال إذا غشي على المؤذن في أحدهما أو مات أو سبقه حدث فذهب وتوضأ أو حصر فيه ولا ملقن أو خرس يجب الاستقبال

والظاهر أن الوجوب ليس على حقيقته بل بمعنى الثبوت لما في المجتبى: وإذا غشي عليه في أذانه أو أحدث فتوضأ أو مات أو ارتد فالأحب استقبال الأذان وكذا صرح بالاستحباب في الظهيرية، وفي السراج الوهاج وفي القنية وقف في الأذان لتنحنح أو سعال لا يعيد وإن كانت الوقفة كثيرة يعيد. (البحر الرائق: ۱/۲۷۸، دار المعرفة). (وكذا في فتح القدير: ۱/۲۵۳، دار الفكر).

بحر کی عبارت سے معلوم ہوا کہ عذر کی وجہ سے دو مؤذنوں کی اذان صحیح نہیں تو بلا عذر دو مؤذنوں کی اذان بدرجہ اولی صحیح نہ ہو گی ۔ علامہ شامی رحمه الله نے بھی یہی لکھا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.