ایک شخص کا دو مسجدوں میں اذان دینے کا حکم:
Question
ایک شخص دو مسجدوں میں اذان دے سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
ایک مؤذن کا دو مسجدوں میں اذان دینا مکروہ ہے سلف سے مروی نہیں ہے، ہاں اگر پہلی مسجد میں نماز نہیں پڑھی تو کراہت کم ہو گی ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
ويكره له أن يؤذن في مسجد ين لأنه إذا صلى في المسجد الأول يكون متنفلاً بالأذان في المسجد الثاني والتنفل بالأذان غير مشروع، ولأن الأذان للمكتوبة وهو في المسجد الثاني يصلي النافلة، فلا ينبغي أن يدعو الناس إلى المكتوبة وهو لا يساعدهم فيها. (شامي: ۱/٤۰۰. وكذا في بدائع الصنائع: ۱/۱٥۱، سعيد كمپني)
طحطاوی میں ہے: (
قوله أن يؤذن في مسجد ين) الكراهة مقيدة بما إذا صلى في الأول كما في البحر. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۸۹. وكذا في تقريرات الرافعي: ۱/٤۷، سعيد)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ایک مؤذن دو مسجدوں میں اذان پڑھے یہ مکروہ ہے، لہذا دوسرے آدمی کا انتظام کیا جائے ۔
ويكره أن يؤذن في مسجد ين لأنه يكون داعياً إلى ما لا يفعل. شرح منية المصلي: ۱/۳٦۱
۔ (فتاوی رحیمیہ:
۳/۱٥)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ایک مؤذن کا دو مسجدوں میں اذان دینا اچھا نہیں ہے مکروہ ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.