ایک حافظ کا دو مسجدوں میں دس دس رکعات پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #293Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۰): تراویح کی نماز کا بیان

Question

اگر ایک حافظ صاحب ایک مسجد میں ۱۰ اور دوسری مسجد میں ۱۰ رکعات تراویح پڑھائے تو جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں ایک مسجد میں دس رکعات اور دوسری مسجد میں دس رکعات پڑھانا جائز ہے اور تراویح کی سنت ادا ہو جائے گی، ہاں ہر ایک مسجد میں ۲۰ رکعات پڑھائے تو دوسری مسجد والوں کی سنت ادا نہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو، فتاوی ہندیہ میں ہے:

إمام يصلي التراويح في مسجد ين في كل مسجد على الكمال لا يجوز كذا في محيط السرخسي والفتوى على ذلك كذا في المضمرات

والأفضل أن يصلي التراويح بإمام واحد فإن صلوها بإمامين فالمستحب أن يكون انصراف كل واحد على كمال الترويحة فإن انصرف على تسليمة لا يستحب ذلك في الصحيح وجازت التراويح بإمامين على هذا الوجه. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱٦، فصل في التراويح، بلوچستان)

شرح منیۃ المصلی میں ہے:

ولو أم في التراويح مرتين في مسجد واحد

وإن في المسجدين اختلف فيه، حكي عن أبي بكر الإسكاف أنه لا يجوز يعني لا يجوز تراويح أهل المسجد الثاني واختاره أبو الليث. (شرح منية المصلي: ٤۰۸، سهيل)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
امام دو جگہ تراویح پڑھائے تو تراویح ہو جاتی ہے اور اگر دونوں جگہ پوری پوری تراویح پڑھا دے تو مفتی بہ قول کے مطابق دوسری مسجد والوں کی تراویح نہ ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
٤/۲۸۸
، دار الاشاعت مکمل و مدلل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.