ایک حافظ کا تراویح میں دو جگہ قرآن ختم کرنا :
Question
اگر ایک حافظ نے تراویح میں ایک مرتبہ قرآن سنایا پھر دوسرا قرآن شروع کیا تو اس کے پیچھے پڑھنے والوں کی سنت ادا ہو گی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مقتدیوں کی سنت ادا ہو جائے گی اور امام صاحب کو بھی فضیلت کا ثواب مل جائے گا ۔ ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
والختم مرة سنة ومرتين فضيلة وثلاثاً أفضل. (الدر المختار: ۲/٤٦، باب النوافل. وكذا في البحر الرائق: ۲/٦۸، باب الوتر والنوافل، الماجدية).
فتاوی واحدی میں مرقوم ہے:
سوال: در صورتیکہ حافظ در تراویح بجماعة در قریہ ختم خواند بعد ازاں در قریہ دیگر در تراویح ختم خواند، سنتِ ختم ازاں جماعة ادا گردد یا نہ؟
جواب: الظاهر أنه تأدي عنهم السنة لا نهم سمعوا الختم في التراويح وسنة التراويح لم يسقط عن الإمام بالختم مرة لما في العالمكيرية: لو حصل الختم بعد التاسع عشر والحادي والعشرين، لا يترك التراويح في بقية الشهر، لأنها سنة كذا في الجوهرة النيرة، انتهى، فيكون اقتداء من يصلي السنة بمن يصلي السنة، وكون الختم الثاني في حق الإمام فضيلة كما في الدر المختار: لا يوجب خللاً في حصول السنة في حق المقتدين لأنهم ما سمعوا الختم مرة، انتهى، وقد حصل في حق المقتدين في التراويح الختم مرة فيحصل لهم ثواب السنة. والله أعلم. حرره الفقير عبد الواحد السيوستاني. (فتاوى واحدي، ص: ۱٥۹، ط: كوئته).
مجموعۃ الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک حافظ نے دس دن میں پہلا قرآن شریف ایک مسجد میں ایک قوم کے ساتھ پھر دوسرا قرآن شریف دوسری مسجد میں دوسری قوم کے ساتھ پڑھا تو آیا تراویح سنت بختم مذکورہ ان دونوں کے لیے ادا ہو گی یا نہیں اور ثواب پائیں گے یا نہیں؟
جواب: ادا ہو گی خزانۃ الروایات میں ہے:
قد روي بعض أهل العلم عن كنز الفتاوى: رجل أم قوماً في التراويح وختم فيها ثم أم قوماً آخرين له ثواب الفضيلة ولهم ثواب الختم،
بعض اہلِ علم نے کنز الفتاوی سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص جس نے تراویح میں ایک جماعت کی امامت اور قرآن ختم کیا پھر دوسرے کی امامت کی تو اس شخص کو فضیلت کا ثواب ملے گا اور ان لوگوں کو ختم کا ۔ واللہ اعلم، (حرره الراجي عفوربه القوي أبو الحسنات محمد عبد الحي). (مجموعۃ الفتاوی:
۱/۲۷۸
، کتاب الصلاۃ، آرام باغ کراچی)
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ:
۷/۳۱٥
، فصل ثالث تراویح قرآن ختم کرنے کا بیان مبوب و مرتب ۔ امداد الاحکام :
۱/٦۲
٦، فصل فی التراویح ۔ فتاوی دار العلوم دیوبند:
٤/۲۷
٤، مسائل تراویح ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.