مسجد میں اذان دینے کا حکم:
Question
بعض حضرات کہتے ہیں کہ مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے اس لیے کہ فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
وينبغي أن يؤذن على المأذنة أو خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية: ۱/٥٥. وفي فتاوى قاضي خان على هامش الهندية: ۱/۷۸)
آج کل مساجد میں لاؤڈ اسپیکر (loud speaker) میں اذان دی جاتی ہے تو کیا مسجد میں محراب کے پاس یا کسی اور جگہ اذان دینا مکروہ ہے یا نہیں؟
Answer
مسجد میں لاؤڈ اسپیکر (loud speaker) پر اذان دینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور جن فقہاء نے مکروہ لکھا ہے اس کی علت فقط باہر آواز کا نہ پہونچنا ہے اور جب آواز ہر جگہ لاؤڈ اسپیکر سے پہنچ جاتی ہے تو یہ علت نہ پائی گئی، نفسِ مسجد سے کراہت کا کوئی تعلق نہیں ۔
مفتی اعظم حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمه الله نے اس مسئلہ کی بہت اچھی تحقیق کی ہے، مفتی صاحب کے کلام کی روشنی میں چند باتیں عرض کی جاتی ہیں:
اذان کے معنی لغت میں اعلام کے ہے اور اصطلاحِ شرع میں اعلامِ مخصوص کو اذان کہتے ہیں ۔
در مختار میں ہے:
هو لغة الإعلام، وشرعاً: الإعلام المخصوص. (الدر المختار: ۱/۳۸۳، سعيد)
اذان کی مشروعیت کتبِ احادیث سے اسی قدر ثابت ہے کہ نماز یوں کو اوقاتِ اذان کی اطلاع ہو جاوے اور مسجد میں حاضر ہو کر باجماعت نماز ادا کریں،
وهذاما أخرجه مسلم عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أنه قال: كان المسلمون حين قدموا المدينة فيتحينون الصلوات وليس ينادي بها أحد فتكلموا يوماً في ذلك: فقال بعضهم
إلى آخر الحديث. (مسلم شريف: ۱/۱٦٤)
وفي السنن الكبرى للبيهقي عن أنس رضي الله عنه قال: ذكروا أن يعلموا وقت الصلاة بشيء فيعرفونه فذكروا أن يضربوا ناقوساً
الخ. (السنن الكبرى: ۱/۳۹۰، بيروت)
وفيه أيضاً عن بعض الأنصار اهتمّ النبي ﷺ للصلاة كيف يجمع الناس لها، فقيل له أنصب راية
الخ. (السنن الكبرى: ۱/۳۹۰. وسنن أبي داود: ۱/۷۱)
اذان کے کلمات پر غور کرو تو صرف ذکر اللہ ہے یا ذکر اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے ۔
ان کلمات کو مسجد سے کسی قسم کی منافات نہیں، اور خارجِ مسجد سے کوئی خاص مناسبت نہیں بلکہ بظاہر تو معاملہ برعکس معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مساجد کی بناء نماز و ذکر اللہ کے لیے ہے ۔
وذلك ما أخرجه مسلم عن أنس رضي الله عنه في قصة الأعرابي
ثم أن رسول الله ﷺ قال له: إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر، إنما هي لذكر الله والصلاة وقراءة القرآن. (مسلم شريف: ۱/۱۳۸)
لیکن چونکہ اذان سے مقصود اعلام اور اطلاع عام ہے، اس لیے بلند جگہ اذان دینا اولیٰ ہوگا، چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بلند مقام پر اذان دینے کا اہتمام تھا، لیکن مسجد یا خارج مسجد کا کوئی التزام نہ تھا، حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں مسجد اور خارجِ مسجد دونوں جگہ اذان دینا ثابت ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وينبغي أن يؤذن على المأذنة أو خارج المسجد، ولا يؤذن في المسجد كذا في فتاوى قاضي خان، والسنة أن يؤذن في موضع عال يكون أسمع لجيرانه ويرفع صوته ولا يجهد نفسه كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية: ۱/٥٥. وكذا في البحر الرائق: ۱/۲٥٥. ورد المحتار: ۱/۳۸٤)
شامی میں ہے:
قلت: والظاهر أن هذا في مؤذن الحي، أما من أذن لنفسه أو لجماعة حاضرين فالظاهر أنه لا يسن له المكان العالي لعدم الحاجة تأمل. (شامي: ۱/۳۸٤، سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويكره الأذان قاعداً وإن أذن لنفسه قاعداً فلا بأس به. (الفتاوى الهندية: ۱/٥٤)
(ان عبارات سے یہ بات واضح ہے کہ جہاں اعلام اور اطلاعِ عام مقصود نہ ہو وہاں بلند جگہ اذان دینا ضروری نہیں)
شامی میں ہے:
وقال ابن سعد بالسند إلى أم زيد بن ثابت: كان بيتي أطول بيت حول المسجد، فكان بلال يؤذن فوقه من أول ما أذن إلى أن بني رسول الله ﷺ مسجد ه، فكان يؤذن بعد على ظهر المسجد، وقد رفع له شيء فوق ظهره. (شامي: ۱/۳۸۷، سعيد)
والحديث أخرجه ابن سعد في الطبقات الكبرى حيث قال: أنا محمد بن عمر، ثني محمد عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة قال: أخبرني من سمع النوار أم زيد بن ثابت تقول: كان بيتي أطول بيت حول المسجد، فكان بلال يؤذن فوقه من أول ما أذن إلى أن بني رسول الله ﷺ مسجد ه، فكان يؤذن بعد على ظهر المسجد وقد رفع له شيء فوق ظهره. (الطبقات الكبرى لابن سعد: ۸/٤۲۰. ومن نساء بني عدي بن النجار، النوار دار صادر، بيروت)
اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر سے پہلے امِ زید کے مکان پر جو مسجد سے متصل تھا اذان ہوتی رہی، اور تعمیر مسجد کے بعد مسجد کی چھت پر ہونے لگی اور چھت پر اذان دینے کے لیے اسے کچھ بلند کر دیا گیا ۔
اذان کی ابتداء عبد اللہ بن زید صحابی رضي الله عنه کے خواب سے ہوئی، چنانچہ اکثر کتب صحاح میں احادیث طویلہ اس مضمون کی موجود ہیں، مثلا ابو داؤد میں ہے:
فجاء رجل من الأنصار فقال: يا رسول ﷲ، إني لما رجعت لما رأيت من اهتمامك، رأيت رجلاً كأن عليه ثوبين أخضرين فقام على المسجد فأذن. (أبو داود: ۱/۷٤)
اس حدیث میں انصاری صحابی رضي الله عنه نے سبز پوش آدمی کو مسجد پر اذان دیتے ہوے دیکھا ۔
وفي سنن ابن ماجة برواية عبد الله بن زيد رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال له: فاخرج مع بلال إلى المسجد فألقها عليه وليناد بلال فإنه أندى صوتاً منك قال: فخرجت مع بلال رضي الله عنه إلى المسجد فجعلت ألقيها عليه وهو ينادي بها. (ابن ماجة: ٥۱)
اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ بلال رضي الله عنه کو مسجد میں لے جا کر ان کو الفاظِ اذان بتلاؤ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔
احادیثِ مذکورہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اذان مسجد اور مسجد کی چھت پر ہوئی، اور ظاہر ہے کہ مسجد کی چھت جملہ احکام میں مسجد ہے، بلکہ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سب سے پہلی اذان حضور ﷺ ہی کے حکم سے مسجد میں ہوئی، الغرض چونکہ اطلاع عام کے لیے اس لیے بلند جگہ ہونا انسب ہے خواہ مسجد ہو یا خارجِ مسجد ۔
میرے نزدیک تو حضرات فقہاء جو اذان کو مسجد میں مکروہ یا نامناسب فرماتے ہیں، اس کا یہی مطلب ہے کہ اذان میں اعلام تام ہونا چاہیے، مسجد میں اذان دینے سے اعلام کافی نہ ہوگا، لہذا مسجد میں کسی اونچی جگہ یا خارجِ مسجد ہونی چاہیے، چنانچہ ارشادِ فقہاء
"يؤذن على المسجد أو خارج المسجد"
علی سبیل التردید ہے
"أو"
کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ
"ميذنة"
پر ہونے کی صورت میں خارج المسجد ہونے کی ضرورت نہیں، اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ
"ميذنة"
جزو مسجد ہے، اس لیے اگر معتکف
"ميذنة"
یا مسجد کی چھت پر چڑھ جاوے تو اعتکاف باطل نہ ہوگا ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، عزیز الفتاوی: جلد اول: ۲۷۹ جلد دوم ۱۸۰)
قوله "اعتکاف باطل نہ ہوگا"
ذكره في المبسوط: وصعود المعتكف على المئذنة لا يفسد اعتكافه. (المبسوط: ٤/۲۰٤)
بدائع الصنائع میں ہے:
ولو صعد المئذنة لم يفسد اعتكافه بلا خلاف. (بدائع: ۲/۱۱٥، سعيد)
قولہ "
مئذنة
مسجد کے حکم میں ہے" اس پر بہت سے جزئیات شاہد ہیں، مثلا محیط میں مذکور ہے:
وإذا صلى في المئذنة مقتدياً بإمام في المسجد تجوز صلاته، وكذا لو صلى على سطح المسجد مقتدياً بإمام في المسجد تجوز صلاته. (المحيط: ۱۲۰۲، دار إحياء التراث)
مزید ملاحظہ ہو:
أحسن الفتاوى: ۲/۲۹٤، ۲۹٥. وإعلاء السنن: ۸/۸٦. وفتاوى دار العلوم ديوبند: مكمل ومدلل: ۲/۱۰۰. وبذل المجهود: ٦/۸٥.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.