طالبِ علم کے دیر سے آنے پر سزا دینے کا حکم:
Question
اگر طالبِ علم دیر سے آئے اور استاذ اس پر غصہ کرے یا اس کو سزا دے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ دیر سے آنے والے طالبِ علم کو سزا دینا جائز اور درست ہے، اور درجِ ذیل حدیث اس کے جواز کی طرف مشیر ہے۔
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: بعثني رسول الله ﷺ في حاجة له فانطلقت ثم رجعت وقد قضيتها فأتيت النبي ﷺ فسلمت عليه فلم يرد على فوقع في قلبي ما الله أعلم به فقلت في نفسي لعل رسول الله ﷺ وجد على إني أبطأت عليه ثم سلمت عليه فلم يرد على فوقع في قلبي أشد من المرة الأولي
الخ. (رواه البخاري: ۱/۱٦۲، باب لا يرد السلام في الصلاة، ط: فيصل).
حضرت جابر
رضي الله عنه
کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، میں دیر سے آیا اور سلام کیا حضور ﷺ نے جواب نہیں دیا میں نے سوچا شاید میں نے تاخیر کی اس وجہ سے آپ غصہ میں ہیں۔ اِس روایت میں تاخیر سے آنے کو سلام کلام نہ کرنے کا سبب بتلایا۔
بخاری شریف کی دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه اپنے شاگرد عکرمہ کے پاؤں میں رسی وغیرہ ڈالتے تھے۔ (صحیح البخاری)۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله "تحفۃ العلماء" میں رقم طراز ہیں:
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلان شخص کی نماز اتنی طویل ہوتی ہے کہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ بد دل ہو کر جماعت چھوڑ دوں، تو رسول اللہ ﷺ اس پر اتنا برا فروختہ (خفا) ہوے کہ کبھی اتنا برا فروختہ ہوتے نہ دیکھا تھا، پھر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو متنفر کرتے ہو جو نماز میں امامت کرے اس کو چاہیے کہ تخفیف سے کام لے، اس سے بھی دو امر ثابت ہوے؛ ایک یہ کہ اگر کچھ اسباق اپنے شاگرد یا ماتحت مدرس کے سپرد کیے جائیں اور اس کی شکایت ہو تو شکایت سننا اور تحقیق کے بعد انتظام کرنا چاہیے، یہ نہیں کہ شکایت کرنے والے کو محض طالبِ علم سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے، دوسرا یہ کہ اگر شاگرد یا طالبِ علم سے کوئی نامناسب حرکت ہو اور معلوم ہو کہ غصہ ہو کر کہنے سے زیادہ نفع ہو گا تو غصہ ہی کرنا افضل ہے۔ (تحفۃ العلماء:
۱
/
۱٤۵
، شکایت سننا اور اس پر تنبیہ کرنا )۔
وہ تین صحابی جو غزوۂ تبوک سے بلا عذر رہ گئے تھے ان کے ساتھ ۵۰ دن تک بات چیت نہ کرنے اور بیویوں کے نہ ملنے کا ذکر حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.