عصر کے بعد سونے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 8 #108Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

عصر کے بعد سونے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

حدیث شریف میں عصر کے بعد سونے کی ممانعت آئی ہے اور فقہاء نے بھی منع لکھا ہے بنا بریں عصر کے بعد سونا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے۔ ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ قال: "من نام بعد العصر فاختلس عقله فلا يلومن إلا نفسه". (رواه أبو يعلي في مسنده (٤۹۱۸)، وقال محشيه حسين سليم أسد: إسناده ضعيف.
وقال الهيثمي في المجمع (۸٤۷۱): رواه أبو يعلي عن شيخه عمرو بن الحصين وهو متروك.
وأخرجه ابن عدي في الكامل (٤/۱٤٦) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، وهو أيضاً ضعيف.
وللمزيد راجع: (الكامل لابن عدي: ٤/۱٤٦، واللآلئ المصنوعة: ۲/۲۳٦، ط: دار الكتب العلمية).
ويكره النوم بعد العصر لحديث: من نام بعد العصر

الخ. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۱/٤۱۳، دار الفكر).

نیز ما قبل میں حضرت خوات بن جبیر
رضي الله عنه
کی روایت گزری، اس روایت میں آخر دن میں سونے کو بے وقوفی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.