نماز ِ فجر کے بعد یا اشراق کے بعد سونے کا حکم:
Question
علمائے کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ فجر کے بعد سونے کا کیا حکم ہے؟ عام لوگوں کو یا طلبہ کو فجر کے بعد یا اشراق کے بعد سونا چاہیے یا نہیں ؟
بينوا بالدليل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
فجر یا اشراق کے بعد سونا بہتر نہیں اس سے بچنا چاہیے۔ مختصر دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(
۱
) أخرج الإمام البخاري في كتابه "الأدب المفرد" عن خوات بن جبير قال: نوم أول النهار خرق (أي جهل) وأوسطه خلق وآخره حمق. إسناده صحيح. (ص ۳۳۲).
وأيضاً أخرجه الحاكم في المستدرك (۷۷۹۷)، والإمام الطحاوي في شرح مشكل الآثار (۳/۱۰۲، مؤسسة الرسالة)، وابن أبي شيبة في مصنفه، (۲۷۲۱۲)، وقال: عن خوات بن جبير وكان بadrيا
الخ، وعبد الرزاق في مصنفه (۵/۳۳۹/۲٦٦۷۷).
حضرت خوات بن جبیر انصاری بدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ دن کی ابتدا میں سونا جہالت ہے اور درمیان میں سونا اخلاق ہے اور دن کے آخر میں سونا بے وقوفی ہے۔ یہ حدیث موقوف ہے اور صحیح ہے۔
(۲) حافظ ابن القیم رحمه الله نے زاد المعاد میں تحریر فرمایا ہے:
وقيل: نوم النهار ثلاثة: خلق، وخرق، وحمق فالخلق نومة المهاجرة وهي خلق رسول الله ﷺ والخرق نومة الضحى تشغل عن أمر الدنيا والآخرة والحمق نومة العصر. (زاد المعاد: ٤/۲۲۱).
دن میں سونا تین قسم کا ہے: (۱) خلق نبوی، (۲) جہالت اور (۳) بے وقوفی، تو اخلاقِ نبوی قیلولہ ہے اور جہالت چاشت کا سونا ہے جو دنیا اور آخرت کے کاموں سے غافل کرتا ہے اور عصر کے وقت کا سونا بے وقوفی ہے۔
(۳) عن صخر الغامدي رضي الله عنه قال: قال عليه الصلاة والسلام: اللهم بارك لا متى في بكورها، قال: وكان إذا بعث سرية أو جيشاً بعثهم في أول النهار قال: وكان صخر رجلاً تاجراً، فكان يبعث تجارته في أول النهار فأثري، وكثر ماله. (رواه ابن ماجه، ص ۱٦۲، وأبو داود، رقم: ۲٦۰۸، والترمذي، رقم: ۱۲۱۲، وقال: حديث صخر الغامدي حديث حسن، والدارمي، رقم: ۲٤۳۵، قال محشيه: إسناده حسن، وابن حبان في صحيحه، رقم: ٤۷۵٤، وقال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف).
حضرت صخر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: یا اللہ! میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما اور جب کوئی بڑا یا چھوٹا لشکر روانہ فرماتے تو دن کی ابتدا میں بھیجتے اور صخر تاجر آدمی تھے اپنے مال تجارت کو اول النہار میں بھیجتے تھے تو بہت مالدار بن گئے۔
(٤)
عن عمر وبن عثمان بن عفان عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: الصبحة تمنع الرزق. (أخرجه الامام أحمد في مسنده، رقم: ۵۳۰).
والصُّبحة هي النوم أول النهار. قال الشيخ شعيب إسناده ضعيف.
قال الهيثمي: رواه أحمد وفيه إسحاق بن أبي فروة وهو ضعيف. (مجمع الزوائد، رقم: ٦۲۳۰، باب نوم الصباح).
قال الحافظ ابن القيم: ونوم الصبحة يمنع الرزق، لأن ذلك وقت تطلب فيه الخليقة أرزاقها، وهو وقت قسمة الأرزاق، فنومه حرمان إلا لعارض أو ضرورة، وهو مضر جداً بالبدن لا رخائه البدن وإفساده للفضلات التي ينبغي تحليلها بالرياضة، فيحدث تكسراً وعياً وضعفاً. (زاد المعاد: ٤/ ۲٤۲، مؤسسة الرسالة).
صبح کا سونا مانع رزق ہے کیوں کہ یہ طلبِ رزق اور تقسیمِ ارزاق کا وقت ہے، اس وقت نیند محرومی ہے ہاں کوئی عارض یا ضرورت ہو تو اور بات ہے اور بدن کے لیے بہت مضر ہے بدن میں سستی پیدا کرتی ہے اور ان فاضل اجزا کو برباد کرتی ہے جس کی تحلیل اور گلانا ورزش اور چلنے پھرنے سے ضروری ہے تو بدن میں سستی، تھکاوٹ، ضعف اور اضمحلال کو پیدا کرتی ہے۔
(۵) في الفتاوى السراجية: يكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء. (الفتاوى السراجية على حاشية فتاوى قاضيخان: ۳/۳۹).
یعنی اول النہار اور مغرب اور عشاء کے درمیان سونا مکروہ ہے۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صبح کے وقت سونا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور قیلولہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.