بوقتِ ضرورت توریہ استعمال کرنے کا حکم:
Question
سکیورٹی ٹریننگ (security training) کے بارے میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مندرجہ ذیل صورت میں جھوٹ بولنا جائز ہوگا؟
ٹریننگ کے لیے سکیورٹی کو یہ کہا جاتا ہے کہ فلان فلان جگہ میں کچھ حادثہ وغیرہ پیش آیا ہے حالانکہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوا ہے، ایسا اس وجہ سے کیا جاتا ہے تاکہ پتا چل جائے کہ اگر واقعی کوئی حادثہ وغیرہ پیش آئے تو ان کا رویہ کیسا رہے گا، اگر کسی چیز کی اصلاح کی ضرورت ہو تو وہ بھی ہو جائے۔
Answer
شریعتِ مطہرہ میں صریح جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے اور کبائر میں سے ہے، لیکن کسی ضرورت اور مصلحت کی وجہ سے توریہ استعمال کرنا درست ہے، مثلاً آپ یہ کہہ دیں کہ میرے خیال میں وہاں چور ہیں اور یہ نیت کریں کہ باہر چور نہیں ہیں میرے ذہن میں ہیں، میں نے فرض کر لیے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بوقتِ ضرورت توریہ استعمال فرمایا تھا۔ ملاحظہ کیجیے:
أخرج الإمام مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: لم يكذب إبراهيم النبي عليه السلام قط إلا ثلاث كذبات ثنتين في ذات الله قوله إني سقيم وقوله بل فعله كبيرهم هذا وواحدة في شأن سارة، فإنه قدم أرض جبار ومعه سارة وكانت أحسن الناس فقال لها إن هذا الجبار إن يعلم أنك امرأتي يغلبني عليك فإن سأل فأخبريه أنك أختي فإنك أختي في الإسلام فإني لا أعلم في الأرض مسلماً غيري وغيرك. (مسلم شريف: ۲/۲٦٦).
قال الإمام النووي رحمه الله: إن الكذبات المذكورة إنما هي بالنسبة إلى فهم المخاطب والسامع وأما في نفس الأمر فليست كذباً مذموماً لوجهين أحدهما: أنه وري بها فقال في سارة: أختي في الإسلام وهو صحيح في باطن الأمر، والوجه الثاني: أنه لوكان كذباً لا تورية فيه لكان جائز اً في دفع الظالمين
فنبه النبي ﷺ على أن هذه الكذبات ليست داخلة في مطلق الكذب المذموم. (شرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۲٦٦).
بعض مواقع میں ضرورت کی وجہ سے صریح جھوٹ کی بھی اجازت ہے لیکن توریہ سے کام چلانا چاہیے۔
قال في الأدب المفرد: عن أم كلثوم إنما سمعت رسول الله ﷺ يقول: ليس الكذب الذي يصلح بين الناس فيقول خيراً أو ينمي خيراً قالت: ولم أسمعه يرخص في شيء مما يقول الناس من الكذب إلا في ثلاث: الإصلاح بين الناس وحديث الرجل امرأته وحديث المرأة زوجها. (رواه البخاري في الادب المفرد: ۱/۱۳۹).
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ہجرت کے موقع پر توریہ استعمال فرمایا۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه أن أبابكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، قال: وكان يعرف، وكان النبي ﷺ لا يعرف فكانوا يقولون: يا أبابكر من هذا الغلام بين يديك؟ قال: هذا هاد يهديني السبيل
الخ. (المصنف لابن أبي شيبة: ۱٦/۵۱۹/۳۲٤۷۲، كتاب الفضائل، ط: المجلس العلمي).
وعلي هامشه قال: هاد يهديني السبيل، يهدي إلى سبيل الهدي والحق، وفي هذا تورية لأن السامع يظن المقصود أنه يدله على الطريق في الصحراء وهذا حماية لرسول الله ﷺ خلال هجرته إلى المدينة إذ كانا وحدهما لا ثالث إلا الله وحده. (المصنف لابن أبي شيبة: ۷/۱۵۵).
قواعد الفقہ میں توریہ کے معنی یوں لکھے ہیں:
التورية: هي أن يريد المتكلم بكلامه خلاف ظاهره مثل أن يقول في الحرب: مات إمامكم، وهو ينوي به أحداً من المتقدمين. (قواعد الفقه، ص ۲٤۱).
وفي قواعد البلاغة: التورية: هي أن يذكر المتكلم لفظاً مفرداً له معنيان قريب ظاهر غير مراد وبعيد خفي هو المراد. (قواعد البلاغة، ص: ۱۳).
قاموس الفقہ میں مرقوم ہے:
توریہ: یہ ہے کہ بولنے والا اپنی بات سے خلافِ ظاہر مفہوم مراد لے، جس کی اس میں گنجائش پائی جاتی ہو، ضرورۃً اس انداز کی گفتگو کرنا درست ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب قوم نے تہوار میں چلنے اور عید منانے کی خواہش کی تھی تو انہوں نے جواب دیا، انی سقیم، میں بیمار ہوں، یہ گویا ایک طرح کا توریہ ہی تھا جس میں قلبی تکلیف اور دلی رنج کا اظہار مقصود تھا، غزوات میں رسول اللہ ﷺ کا یہی طریقہ تھا کہ جہاں کا قصد ہوتا دوٹوک لفظوں میں وہاں کا نام نہیں لیتے، مبہم انداز میں کہتے کہ فلاں طرف کا قصد ہے۔ (قاموس الفقہ:
۲
/
۵٤٦
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.