چادر استعمال کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 8 #271Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کیا چادر کا استعمال سنت ہے یا مستحب یا مباح؟ اور چادر کی لمبائی و چوڑائی کتنی مناسب ہے, اور نماز میں اس کا استعمال کس درجہ میں ہے مباح یا مستحب؟ بینوا توجروا.

Answer

بصورت مسئولہ چادر کا استعمال انبیائے کرام علیہم الصلاة السلام کا طریقہ تھا, اور آپ ﷺ نے بھی چادر استعمال فرمائی ہے اگرچہ حضور ﷺ کو قمیص زیادہ پسند تھی, علماء نے منقش یمنی چادر کے استعمال کو مستحب قرار دیا ہے. نماز میں چادر کا استعمال سنت نہیں لیکن اولی و بہتر ہے ہاں, گرمی ہو یا عام لوگ استعمال نہ کرتے ہوں تو استعمال نہ کرے. دلائل اور شواہد حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
امام بخاری رحمه الله نے چادر سے متعلق باب قائم فرمایا ہے؛
باب الأردية وقال أنس رضي الله عنه جبذ أعرابي رداء النبي ﷺ

وبسنده عن على بن الحسين أن حسين بن على رضي الله عنه أخبره أن علياً رضي الله عنه قال: فدعا النبي ﷺ بردائه فارتدي به ثم انطلق يمشي واتبعته أنا وزيد بن حارثة حتى جاء البيت الذي فيه حمزة فاستأذن فأذنوا لهم. (صحيح البخاري: ۲/۸٦۲, رقم: ۵۵٦۵).
اس روایت میں نبی ﷺ کی چادر کا ذکر ہے.
دوسری جگہ مذکور ہے:
عن قتادة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قلت له أي الثياب كان أحب إلى النبي ﷺ أن يلبسها قال: الحبرة. (صحيح البخاري: ۲/۸٦۵, رقم: ۵۵۸٤, باب البرود والحبرة). وفي عمدة القاري: قوله: حبرة، برد هو يمان يقال: برد حبير

وقيل: الحبرة ما كان من البرود مخططاً موشياً. (عمدة القاري: ۱۵/۲۷, دار الحديث، ملتان).
وعن عائشة رضي الله عنه قالت: خرج النبي ﷺ ذات غداة وعليه مرط مرحل من شعر أسود. (صحيح مسلم: ۲/۱۹٤). قال النووي: أما المرط: هو كساء يكون تارة من صوف وتارة من شعر أو كتان أو خز. (شرح صحيح مسلم للإمام النووي: ۲/۱۹٤).

احسن الفتاوی میں مرقوم ہے: رسول اللہ ﷺ کا سیاہ بالوں کی چادر کا استعمال فرمانا ثابت ہے مگر اس پر مداومت ثابت نہیں . (احسن الفتاوی:
۸
/
۵۱
).
شمائل کبری میں ہے: حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
سے مروی ہے کہ چادر اوڑھنا ایمان کی نشانی ہے, آپ ﷺ چادر اوڑھتے تھے. (شمائل کبری، جلد اول, ص
۱٦۷
, ط: زمزم، کراچی).
چادر کی لمبائی اور چوڑائی. ملاحظہ کیجیے:
چادر کی لمبائی چار ذراع اور چوڑائی ڈھائی ذراع مناسب ہے نیز لمبائی چھ ذراع اور چوڑائی تین ذراع بھی ہو سکتی ہے, آپ ﷺ کی چادر مبارک کی مقدار تقریباً اتنی ہی تھی.
ملاحظہ ہو امتاع الاسماع میں مرقوم ہے:

كان رداء النبي ﷺ أربعة أذرع ونصف في ذراعين ونصف. (إمتاع الأسماع: ۳/۳۸۳).
وللمزيد ينظر: (المواهب اللدنية: ۲/۱۹۹, وسبل الهدي والرشاد: ۷/۳۰۷).
وقال الواقدي: إن بردة النبي ﷺ كانت يمانية طول ستة أذرع في ثلاثة وشبر, وإزاره من نسج عمان طوله أربعة أذرع وشبر في عرض ذراعين وشبر, كان يلبسهما يوم الجمعة والعيدين, ثم يطويان. (المختصر الكبير في سيرة الرسول للشيخ عزالدين بن جماعة الكتاني: ۱/۱۲۹).

شمائل کبری میں مرقوم ہے: امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمه الله نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک حضرمی چادر تھی جس کی لمبائی چار ہاتھ, چوڑائی دو ہاتھ ایک بالشت تھی, ابن سعید سے عروہ بن زبیر رضی الله عنه نے بھی یہ مقدار نقل کی ہے. ابن ملقن نے واقدی سے نقل کیا ہے آپ کے پاس ایک چادر تھی جس کی لمبائی چھ ہاتھ اور چوڑائی تین ہاتھ تھی. (شمائل کبری، جلد اول, ص
۱٦۷
, ط: زمزم، کراچی).
علامہ ابن قیم رحمه الله نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک دھاری دار چادر تھی جس کی لمبائی چھ ہاتھ اور چوڑائی تین ہاتھ ایک بالشت تھی۔ (
۱
/
۵۱
)۔
نماز میں چادر کا استعمال مباح ہے۔ ملاحظہ کیجیے: بخاری شریف میں ہے:

عن محمد بن المنكدر، قال: دخلت على جابر بن عبد الله: وهو يصلي في ثوب ملتحفاً به، ورداؤه موضوع، فلما انصرف قلنا: يا أبا عبد الله تصلي ورداؤك موضوع، قال: نعم، أحببت أن يراني الجهال مثلكم، رأيت رسول الله ﷺ يصلي هكذا. (صحيح البخاري: ۱/۵۳).

انوار الباری میں لکھا ہے: حضرت اقدس مولانا گنگوہی رحمه الله نے فرمایا: حضرت جابر
رضي الله عنه
نے ایک کپڑے میں بغیر چادر کے نماز اس لیے پڑھی کہ تعلیم مقصود تھی، کیوں کہ عام لوگ سنن و آداب و مستحبات کے ساتھ بھی واجب جیسا معاملہ کرتے ہیں حالانکہ ہر ایک کو اپنے اپنے مرتبہ میں رکھنا چاہیے لہذا تعلیم ضروری تھی اور بہ نسبت محض قول کہ عملی تعلیم سے زیادہ فائدہ ہوا کرتا ہے۔ (انوار الباری:
۱۱
/
۱۵۷
)۔
لامع الدراری میں مذکور ہے:
دفع الشيخ بذلك ما يرد أن الصلاة في الثوب الواحد وإن كان جائز اً لكنه خلافاً للأولي لا سيما عند تعدد الثياب كما يدل عليه قوله: ورداء ه موضوع. (لامع الدراري: ۱/۱٤۵، سعيد كمپني).

فقہاء نے تین کپڑوں میں نماز پڑھنے کو مستحب قرار دیا ہے ہاں ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے۔
قال في الهندية: والمستحب أن يصلي الرجل في ثلاثة أثواب: قميص، وإزار، وعمامة، أما لو صلي في ثوب واحد متوشحاً به تجوز صلاته من غير كراهة وإن صلي في إزار واحد يجوز ويكره. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۹). (وكذا في البحر الرائق: ۲/۲۷).

شمائل کبری میں ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه کہتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ صبح نماز پڑھ رہے تھے اور سفید چادر میں ملبوس تھے۔ (شمائل کبری، جلدِ اول، ص
۱٦٤
، ط: زمزم، کراچی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.