شیروانی پہننے کا ثبوت:

5 min readFatwa Vol 8 #169Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

واسکٹ، صدری، کوٹ یا شیروانی جو کپڑوں کے اوپر پہنی جاتی ہے، کیا آنحضرت ﷺ یا صحابہ کرام سے اس کا ثبوت ملتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اشیائے مذکورہ بالا پہننے کا ثبوت قرآنِ کریم میں اشارۃً، احادیث میں صراحتاً اور صحابہ کرام کے عمل سے بھی ملتا ہے۔ درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
اللہ تعالی نے اہل جنت کا لباس قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے:

عليهم ثياب سندس خضر واستبرق. (الدهر: ۲۱)، ثياب سندس حرير خضر واستبرق ما غلظ من الديباج وهو بطائن والسندس الظهائر. (جلالين: ۲/٤۸٤).

علامہ آلوسی رحمه الله فرماتے ہیں:

وربما تشعر الآية بأن تحتها ثياباً أخري، وقيل: إن المراد فوق حجالهم مضروبة عليهم ثياب سندس. الخ. (روح المعاني: ۲۹/۱٦۲).

اس بارے میں احادیث میں چار قسم کے الفاظ آتے ہیں: ملاحظہ کیجیے:
(۱)
جبة
: چوغہ، شیروانی نما کوٹ۔

حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد الملك قال: حدثنا عبد الله مولي أسماء عن أسماء رضي الله تعالى عنها قال: أخرجت إلى جبة طيالسة عليها لبنة شبر من ديباج كسرواني وفرجاها مكفوفان به قالت: هذه جبة رسول الله ﷺ كان يلبسها كانت عند عائشة رضي الله عنه فلما قبضت عائشة رضي الله عنه قبضتها إلى فنحن نغسلها للمريض منا يستشفي بها. (أخرجه الامام أحمد، رقم: ۲٦۹٤۲).

ترجمہ: عبد اللہ مولی اسماء کہتے ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے میرے سامنے ایک اونی جبہ نکالا اس کے گریبان میں ایک بالشت کی مقدار ریشمی کپڑا لگا ہوا تھا اور پچھلا حصہ کھلا ہوا تھا، فرمایا یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ تھا آپ اس کو زیب تن فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تھا، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات ہوئی تو میں نے لے لیا، اب ہم بیمار کو شفا کے لیے یہ جبہ دھو کر پانی پلاتے ہیں۔
فائدہ: جبہ: وہ شیروانی نما کوٹ ہے جس میں استر ہو اور درمیان میں روئی رکھی گئی ہو، جس کو چوغہ کہتے ہیں، علامہ وحید الزمان کیرانوی رحمه الله نے القاموس الوحید میں طیلسان کے معنی یوں لکھے ہیں: زرد رنگ کی شال جو مشائخ کندھوں پر ڈالتے ہیں۔ نیز چوغہ کو بھی کہتے ہیں۔ اور جبہ کے معنی چوغہ کے لکھے ہیں۔
(۲)
عَباء:
چوغہ: بغیر آستین کا جو سامنے سے کھلا ہو۔

عن أنس رضي الله عنه قال: ذهبت بعبد الله بن أبي طلحة إلى النبي ﷺ حين ولد والنبي ﷺ في عباءة يهنأ بعيراً له

(رواه أبو داود، رقم: ٤۹۵۳).
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كان الناس ينتابون الجمعة من منازلهم من العوالي، فيأتون في العباء

(رواه مسلم، باب وجوب الجمعة على كل بالغ).
معجم اللغة العربية المعاصرة
میں ہے:

عباء ة: كساء واسع مشقوق من الأمام بلا كمين، يلبس فوق الثياب. (۲/۱٤٤٦).

القاموس الوحید میں ہے: العباء: بغیر آستین کا چوغہ جو کپڑوں پر پہنا جاتا ہے۔ (
۲
/
۱۰۳۷
)۔
(۳)
الفروة:
چمڑے کا کوٹ:

عن راشد الحماني قال: رأيت أنس بن مالك رضي الله عنه عليه فرو أحمر فقال: كانت لحفنا على عهد رسول الله ﷺ نلبسها ونصلي فيها. رواه الطبراني في الأوسط عن أحمد بن القاسم فإن كان هو ابن الريان فهو ضعيف وإن كان غيره فلم أعرفه وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: باب لبس الفراء).

علامہ زبیدی تاج العروس میں لکھتے ہیں:
الفروة: لبس معروف

وهي جلود حيوانات، تدبغ فتخيط، ويلبس بها الثياب، فيلبسونها اتقاء البرد. (تاج العروس: ۳۹/۲۲۵).

فروہ مشہور لباس ہے یہ دراصل جانوروں کے چمڑے ہیں جن کو دباغت دے کر سیا جاتا ہے اور سردی سے بچاؤ کی خاطر پہنا جاتا ہے۔
(٤)
المستقة:
دراز آستین کی پوستین:

قال في المغرب: المستقة: فرو طويل الكمين عن ابن الأعرابي والأصمعي، وعن ابن شميل: هي الجبة الواسعة. (۲/۲٦۷).
وقال في طلبة الطلبة: فرو طويل الكمين وهي معربة واصلها بوستين. (۲/۱۳٦).
سنن أبي داود شريف
میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن ملك الروم أهدي إلى النبي ﷺ مستقة من سندس فلبسها فكأني أنظر إلى يديه تذبذبان ثم بعث بها إلى جعفر

(رواه أبو داود، رقم: ٤۰٤۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.