قمری حساب کی جگہ شمسی حساب استعمال کرنے کا حکم:
Question
آج کل لوگ قمری حساب کی جگہ شمسی حساب استعمال کرتے ہیں، قمری حساب کو چھوڑ کر شمسی حساب استعمال کرنا جائز ہے یا خلاف اولی ہے؟ اور اگر سب لوگ قمری حساب کو چھوڑ دیں تو شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
قمری حساب شعائر اسلام میں سے ہے، اس کا ضبط کرنا فرضِ کفایہ ہے اس لیے کہ احکامِ شریعت کا مدار قمری حساب پر ہے، جیسے زکوۃ، صوم، حج، اور عنین کی تاجیل، طلاق کی عدت، بیوہ کی عدت، وغیرہ، بنا بریں مسلمانوں کو قمری حساب استعمال کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے، ہاں دنیوی معاملات وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرنا جائز ہے لیکن خلاف اولی ہے۔ ملاحظہ ہو احکام القرآن میں مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله رقم طراز ہیں:
المعتبر في الشرع هو الحساب القمري دون الشمسي: وفيه دلالة أن المعتبر في الشرع هو الحساب بالأهلة والسنة القمرية دون الشمسية، قال تعالى: هو الذي جعل الشمس ضياء والقمر نوراً وقدره منازل لتعلموا عدد السنين والحساب، فلو كان الهلال مدوراً كالشمس أو ملازماً حالة واحدة لم يكد يتيسر التوقيت به، ففي التوقيت بالأهلة من اليسر ما ليس في التوقيت بالشمس، فلا يعجز عنه عالم ولا عامي، بخلاف التوقيت بالشمس فلا يقدر عليه إلا من يطالع دقائق علم الهيئة الموقوفة على إرصاد والزيج ونحوها، فما كان للحنيفية السمحة البيضاء التي كلف بها العباد كلهم حاضرتهم وباديتهم أن تعتبر التوقيت بالشمس والحال هذه، وإنما المناسب أيسرها، وسماحتها اعتبار الحساب بالأهلة فلأجل ذلك جعلت الشريعة مدار الأحكام والعبادات على الحساب القمري، فمنها ما يجب اعتباره فيه كالحج، وصوم رمضان، وصلاة العيدين، والزكاة، وعدد الطلاق، وأمثالها، ومنها ما لا يجب اعتباره فيه ويجوز توقيته بالحساب الشمسي كآجال الديون والإجارات، وإن كان الأولي توقيته بالقمري أيضاً كما لا يخفي. (أحكام القرآن: ۱/۲۷۸).
امام قرطبی اپنی تفسیر میں آیتِ کریمہ
"إن عدة الشهور"
کے تحت فرماتے ہیں:
هذه الآية تدل على أن الواجب تعليق الأحكام من العبادات وغيرها إنما يكون بالشهور والسنين التي تعرفها العرب دون الشهور التي تعتبرها العجم والروم والقبط وإن لم تزد على اثني عشر شهراً، لأنها مختلفة الأعداد، منها ما تزيد على ثلاثين ومنها ما ينقص وشهور العرب لا تزيد على ثلاثين وإن كان منها ما ينقص، والذي ينقص ليس يتعين له شهر وإنما تفوتها في النقصان والتمام على حسب اختلاف سير القمر في البروج. (الجامع لا حكام القرآن: ۸/۸۵، التوبة).
مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کر دیا، اور عام معاملات، تجارات وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا، جو عبادت اسلام کا ذریعہ بھی، اور ایک طرح کا اسلامی شعار بھی، اگر چہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہو جائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں، کیوں کہ ایسا کرنے میں عبادات: روزہ و حج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے، جیسا کہ اس زمانہ میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہو گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ قومی و ملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرضِ کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا، اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔ (معارف القرآن:
۱
/
٤٦۸
)۔
شمسی حساب کے استعمال کی ایک خرابی:
احسن الفتاوی میں مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں: مکاتبات و مخاطبات، عام بول چال اور دیگر امور میں انگریزی تاریخ کا استعمال بلا ضرورتِ شدیدہ قبیح و شنیع ہے، اس میں عیسائیوں کے نظریہ باطلہ کی تائید کا شائبہ اور ان کو خوش کرنے کا مفسدہ پایا جاتا ہے، انگریزی تاریخ کی ابتدا حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء سے ہوئی ہے جب کہ عیسائیوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا، اس سے اس تاریخ کی ابتدا ہوئی ہے۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۲٤۵
)۔
علماء فرماتے ہیں کہ قمری حساب کا استعمال فرضِ کفایہ ہے: احکام القرآن میں مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
حكم استعمال الحساب الشمسي في المكاتبات والمخاطبات والمعاملات؛ ومن هنا علم أن استعمال الحساب الشمسي في المكاتبات والمخاطبات والمعاملات وإن كان جائز اً فلا ريب أنه خلاف الأولي، لكونه خلاف سنة رسول الله ﷺ وسنة أصحابه والسلف الصالحين، وأيضاً فلما كان مدار الأحكام الشرعية والعبادات الدينية على الحساب القمري كان حفظه وضبطه فرضاً على الكفاية، وأحسن طرقه وأيسرها أن يستعمل في المكاتبات، والمخاطبات، والمعاملات اليومية، ولا يخفي أن الإتيان بفرض الكفاية عبادة، وما كان طريقاً إلى حفظه فهو عبادة أيضاً، فاستعمال الحساب القمري مطلوب شرعاً، وبعيد من المسلم أن يترك المطلوب الشرعي ويستعمل الحساب الشمسي الذي هو ضده في الجملة، وبعيد منه كل البعد أن يميل إلى هذا الضد بحيث لا يبقي له ميل إلى المطلوب الشرعي بالمرة، كما هو مشاهد من غوائد أكثر المسلمين في هذا الزمان بل ومن عادة كثير من العلماء أيضاً، فإلي الله المشتكي من انقلاب القلوب وميلها إلى العيوب، المؤدية إلى الذنوب، وكل ذلك مع دعوهم بغض النصارى وقد أشرب قلوبهم حب النصرانية، أعاذنا الله من ذلك ورزقنا حب السنة النبوية والعوائد الإسلامية إنه سميع مجيب. (أحكام القرآن: ۱/۲۷۹، ۲۸۰).
مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ الله فرماتے ہیں:
شریعت میں مہینہ اور سال قمری ہی معتبر ہے اور اس کا استعمال مسلمانوں کے لیے فرضِ کفایہ ہے، اگر چہ دنیوی معاملات میں شمسی حساب کا استعمال جائز ہے لیکن اگر سب کے سب قمری حساب کو ترک کر دیں تو گنہگار ہوں گے جیسا کہ فرض علی الکفایہ کا حکم ہے۔ (معارف القرآن:
۱
/
۳۸۰
)۔
مزید ملاحظہ ہو: (کمالین شرح جلالین:
۱
/
۲۰۹
)۔
شمسی حساب کا استعمال اہل کتاب کی عادتِ مستمرہ ہے۔
ملاحظہ ہو ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں:
وروي الطبراني من حديث ابن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة بن زيد عن أبيه قال: ليس يوم عاشوراء باليوم الذي يقول الناس، إنما كان يوم تستر فيه الكعبة وتقاس فيه الحبشة عند النبي ﷺ وكان يدور في السنة فكان الناس يأتون فلاناً اليهودي يسألونه فلما مات اليهودي أتوا زيد بن ثابت رضي الله عنه فسألوه وهذا فيه إشارة إلى أن عاشوراء ليس هو في المحرم بل يحسب بحساب السنة الشمسية كحساب أهل الكتاب وهذا خلاف ما عليه عمل المسلمين قديماً وحديثاً وفي صحيح مسلم عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ كان يعد من هلال المحرم ثم يصبح يوم التاسع صائماً وابن أبي الزناد لا يعتمد ما ينفرد به وقد جعل الحديث كله عن زيد بن ثابت وآخره لا يصلح أن يكون من قول زيد رضي الله عنه فلعله من قول من دونه، والله أعلم. (لطائف المعارف، ص ۵۲).
علامہ ابن القیم رحمه الله زاد المعاد میں فرماتے ہیں:
وصوم أهل الكتاب إنما هو بحساب سير الشمس، وصوم المسلمين إنما هو بالشهر الهلالي، وكذلك حجهم، وجميع ما تعتبر له الأشهر من واجب أو مستحب. (زاد المعاد في هدي خير العباد: ۲/۷۰).
حافظ ابن حجر رحمه الله فتح الباری میں فرماتے ہیں:
ويحتمل أن يكون أولئك اليهود كانوا يحسبون يوم عاشوراء بحساب السنين الشمسية فصادف يوم عاشوراء بحسابهم اليوم الذي قدم فيه النبي ﷺ المدينة، وهذا التأويل مما يترجح به أولوية المسلمين وأحقيتهم بموسى عليه الصلاة والسلام لا ضلالهم اليوم المذكور وهداية الله للمسلمين له. (فتح الباري: ٤/۲۴۷، باب صيام يوم عاشوراء).
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
ظفرت بمعناه في كتاب "الآثار القديمة" لابي الريحان البيروني، فذكر ما حاصله: أن جهلة اليهود يعتمدون في صيامهم، وأعيادهم حساب النجوم، فالسنة عندهم شمسية، لا هلالية. (فتح الباري: ٤/۲۴۸).
سورۂ کہف میں اللہ تعالی نے یہود کے جواب میں شمسی تاریخ کا ذکر فرمایا ہے:
قال الله تعالى: ولبثوا في كهفهم ثلاث مائة سنين وازدادوا تسعاً.
اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ:
ثلاث مائة سنين أي من السنة الشمسية
اور
وازدادوا تسعاً، أي من السنة القمرية
اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہر سو شمسی سال کے مقابلہ میں ایک سو تین قمری سال آتے ہیں تو تین سو شمسی سال کی کل تعداد تین سو نو قمری سال ہوتی ہے۔
مندرجہ ذیل چند وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کو قمری تاریخ استعمال کرنی چاہیے:
٭ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے قمری حساب مقرر فرمایا تھا۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے:
فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ
(أخرجه أبو داود، ٤٦۰۹، وابن ماجه، ٤۲، والترمذي، ۲٦۷٦، وقال: هذا حديث صحيح، وابن حبان، رقم: ۵، وأحمد، ۱۷۱٤٤، والبزار، ٤۲۰۱، والحاكم، ۳۲۹).
٭ تعاملِ ناس کی وجہ سے خلافتِ عثمانیہ کے کامل دور میں لوگ قمری تاریخ استعمال کرتے تھے۔
٭ نصاری کے عقیدے کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے۔
٭ مسلمانوں میں غیر مسلم سے امتیاز کرنے کی وجہ سے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.