کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے ایجنسی کھولنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 8 #192Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

مجھے ایک مسئلہ میں رہنمائی چاہیے: میں کرکٹ کھیلنے والوں کے لیے ایک ایجنسی کھولنا چاہتا ہوں، اس ایجنسی میں ہم مفت میں نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کریں گے، اس شرط کے ساتھ کہ مستقبل میں جب کسی ٹیم کے ساتھ اجرت پر کھیلے گا تو اس اجرت کا دسواں حصہ ہماری ایجنسی کو ملے گا، کیوں کہ ہم ان کو تیار کرتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا عقد جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مذکورہ ایجنسی کا مفت کھلاڑیوں کو تیار کرنا یہ تبرع ہے اور اس میں آئندہ اجرت میں سے حصہ لینے کی شرط لگائی ہے، بنا بریں اس عقد کو تبرعِ مشروط سے موسوم کر سکتے ہیں جو احادیث اور کتبِ فتاوی کی عبارات کی روشنی میں جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه أن جاراً لرسول الله ﷺ فارسياً كان طيب المرق فصنع لرسول الله ﷺ ثم جاء يدعوه، فقال: وهذه لعائشة رضي الله تعالى عنها فقال: لا، فقال رسول الله ﷺ: لا، فعاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: لا، قال رسول الله ﷺ: لا، ثم عاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: نعم في الثالثة، فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله. (رواه مسلم: ۲/۱۷٦).

حدیثِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کو دعوتِ طعام پیش کی آپ ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بھی شرط لگائی اس نے انکار کر دیا پھر تیسری مرتبہ میں اجازت دے دی تو آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہمراہ تشریف لے گئے۔
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے اونٹ کا پالان خریدا اور عازب رضی الله عنه سے درخواست کی کہ اپنے بیٹے براء رضی الله عنه سے کہہ دے کہ یہ پالان میرے ساتھ لے چلے، عازب رضی الله عنه نے کہا نہیں مگر اس شرط پر کہ آپ ہجرت کا واقعہ سنا دیں، حضرت ابوبکر صدیق
رضي الله عنه
نے ہجرت کا واقعہ سنایا اور حضرت براء
رضي الله عنه
پالان لے گئے۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن البراء رضي الله عنه قال: اشتري أبو بكر رضي الله عنه من عازب رضي الله عنه رحلاً بثلاثة عشر درهماً، فقال أبو بكر رضي الله عنه: لعازب رضي الله عنه مر البراء فليحمل إلى رحلي، فقال عازب: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله ﷺ حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم، قال: ارتحلنا

الخ. (رواه البخاري ۱/۵۱۵، في مناقب المهاجرين).

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تبرعِ مشروط جائز ہے اور تبرعِ مشروط یہ ہے کہ احسان میں کوئی شرط لگانا یا کسی معاملہ میں اپنے فائدہ کی شرط لگانا، صورتِ مسئولہ میں بھی یہی شکل ہے کہ مفت میں کھلاڑی تیار کر کے ان کی اجرت میں سے حصہ کی شرط لگائی گئی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو: امداد الاحکام میں ہے:
پس ارشاد ہوا کہ معاہدہ مذکورہ کہ خریدار کو سال بھر کے برابر چالو مارکو کا مال خریدتے رہنے کی حالت میں دو تین روپیہ سیکڑہ مثلاً سال کے تمام پر رعایت دی جائے اور دورانِ سال دوسری جگہ ایک مرتبہ بھی خریدنے میں بالکل کچھ نہ دیا جائے شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: یہ معاہدہ جائز ہے کیوں کہ خریدار کو سال تمام پر جو کمیشن ہر سیکڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے خریدار کا حق لازم نہیں ، اور تبرع کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے۔ (امداد الاحکام:
۳
/
۳۸٦
)۔
دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:
سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: جائز ہے کیوں کہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیوں کہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہ ہو گی اس کو عدمِ داخلہ کا اختیار ہو گا۔

ودليله أنه عليه السلام قال لمن أضافه وعائشة رضي الله تعالى عنها، قال: لا، قال: فلا إذن، قال في الثالثة وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: نعم
۔ (امداد الاحکام:
۳
/
٦۰٦
)۔
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص آنحضور ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا تھا، آنحضور ﷺ نے ان ہاں جانے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جانے کی شرط رکھی جس کو تیسری مرتبہ میزبان نے قبول کر لیا، رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا تبرع تھا جس کو حضرت عائشہ رضی الله عنه کے جانے کے ساتھ مشروط فرمایا۔
فائدہ: امداد الاحکام حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کی نگرانی میں تحریر شدہ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔ ماہنامہ "البلاغ" جمادی الاولی ۱٤۳۲؁ھ میں حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب رحمه الله کا ایک مضمون شائع ہوا ہے اس میں حضرت نے فرمایا: حقیقت میں یہ امداد الاحکام حضرت تھانوی رحمه الله کے امداد الفتاوی کا تتمہ ہے (البلاغ، ص ٤۰)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.