کمپنی سے ممبرشپ کارڈ لے کر پوئنٹ حاصل کرنے کا حکم:
Question
آج کل کمپنیاں بطورِ ممبرشپ مشتری کے نام سے ایک کارڈ جاری کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مشتری کو سامان کی خریداری میں خصوصی مراعات ملتی ہیں، اور خریداری پر پوئنٹ بھی ملتے ہیں پھر سال کے آخر میں پوئنٹ کے ذریعہ انعام ملتا ہے یا خصوصی مراعات ملتی ہیں، لیکن اس کو حاصل کرنے کے لیے سال بھر میں چند مرتبہ اس کمپنی سے سودا خریدنا ضروری ہوتا ہے تو کیا ایسا کارڈ حاصل کر کے مراعات لینا جائز ہو گا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ کمپنیوں سے کارڈ حاصل کر کے اس پر مشروط پوئنٹ یا مخصوص مراعات حاصل کرنا جائز اور درست ہے، فقہ کی اصطلاح میں اِس کو تبرعِ مشروط کہتے ہیں ۔
چند دلائل درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں: مسلم شریف میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه أن جاراً لرسول الله ﷺ فارسياً كان طيب المرق فصنع لرسول الله ﷺ ثم جاء يدعوه، فقال: وهذه لعائشة رضي الله تعالى عنها فقال: لا، فقال رسول الله ﷺ: لا، فعاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: لا، قال رسول الله ﷺ: لا، ثم عاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: نعم في الثالثة، فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله. (رواه مسلم: ۲/۱۷٦).
حدیثِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کو دعوتِ طعام پیش کی آپ ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بھی شرط لگائی اس نے انکار کر دیا پھر تیسری مرتبہ میں اجازت دے دی تو آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہمراہ تشریف لے گئے ۔
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے اونٹ کا پالان خریدا اور عازب رضی الله عنه سے درخواست کی کہ اپنے بیٹے براء رضی الله عنه سے کہ دے کہ یہ پالان میرے ساتھ لے چلے، عازب رضی الله عنه نے کہا نہیں مگر اس شرط پر کہ آپ ہجرت کا واقعہ سنا دیں، حضرت ابوبکر صدیق
رضي الله عنه
نے ہجرت کا واقعہ سنایا اور حضرت براء
رضي الله عنه
پالان لے گئے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن البراء رضي الله عنه قال: اشتري أبوبكر رضي الله عنه من عازب رضي الله عنه رحلاً بثلاثة عشر درهماً، فقال أبوبكر رضي الله عنه: لعازب رضي الله عنه مر البراء فليحمل إلى رحلي، فقال عازب: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله ﷺ حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم، قال: ارتحلنا
الخ. (رواه البخاري ۱/۵۱۵، في مناقب المهاجرين).
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تبرعِ مشروط جائز ہے اور تبرعِ مشروط: احسان میں شرط لگانے یا کسی معاملہ میں اپنے فائدہ کی شرط لگانے کو کہتے ہیں ۔
مزید ملاحظہ ہو ملاحظہ ہو : (امداد الاحکام: ۳/۳۸٦، و ٦۰٦، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۵۵٤، ۵۵۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.