عبادت کو کھیل سے تعبیر کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #196Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

عبد اللہ بن مبارک رحمه الله نے فضیل بن عیاض رحمه الله کو خط میں کچھ اشعار لکھے، ان میں پہلا شعر یہ ہے:

يا عابد الحرمين لو أبصرتنا
ظ
لعلمت أنك في العبادة تلعب

اے حرمین کے عابد! اگر آپ ہم کو دیکھ لیتے تو آپ کو یقین ہو جاتا کہ آپ عبادت میں کھیل رہے ہیں۔ اِس شعر میں عبادت کو کھیل کہنا بظاہر عبادت کی بے ادبی ہے، اور ابن مبارک رحمه الله بہت اہم شخصیت ہیں انہوں نے یہ شعر کیسے کہا؟ اور یہ اشعار کہاں ہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ مذکورہ بالا اشعار کی چند توجیہات حسبِ ذیل ہیں، جن کی بنا پر حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمه الله جیسی عظیم شخصیت پر غبار نہیں آتا۔
(۱) یہاں لعب مجاز ہے سہولت سے، یعنی مصلے پر عبادت آسان ہے بہ نسبت جہاد کے کہ اس میں مجاہدہ زیادہ ہے اور جب مجاہدہ زیادہ ہے تو یہ علو درجات میں زیادہ معین و مدد گار ہے، جیسے عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یعنی میرے لیے بہت آسان ہے۔
(۲) لعب بول کر جہاد کے کثرتِ ثواب کو بتلانا مقصود ہے، یعنی عبادت کے مقابلے میں جہاد کا ثواب بہت زیادہ ہے جیسا کہ پورا واقعہ اس کی طرف مشیر ہے، مثلاً: دوسرا شعر ہے:

من كان يخضب خده بدموعه
ظ
فنحورنا بدمائنا تتخضب

یعنی تم آنسو بہاتے ہو اور ہم خون بہاتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ خون بہانے کا ثواب آنسو بہانے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، اسی طرح اگلا شعر:

ريح العبير لكم ونحن عبيرنا
ظ
رهج السنابك والغبار الأطيب

یعنی تم عبادت کرنے کے لیے اچھے عطر مثل عنبر و مشک لگا کر جاتے ہو اور ہمارا مشک و عنبر میدانِ کار زار کا غبار ہے اور ظاہر ہے کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
اسی طرح جہنم کی آگ کا جہاد کے غبار زدہ بدن کو نہ چھونا اور شہید کا ابدی زندگی پانا یہ سب فضیلتیں محض عبادتوں سے حاصل نہیں ہوتیں۔
علاوہ ازیں فضیل بن عیاض رحمه الله نے اس خط کے جواب میں جو حدیث لکھوائی اس سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے:
وأملي على الفضيل بن عياض رحمه الله: حدثنا منصور بن المعتمر عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رجلاً قال: يا رسول الله! علمني عملاً أنال به ثواب المجاهدين في سبيل الله فقال: هل تستطيع أن تصلي فلا تفتر وتصوم فلا تفطر؟ فقال: يا رسول الله! أنا أضعف من أن أستطيع ذلك، ثم قال النبي ﷺ: فوالذي نفسي بيده لو طوقت ذلك ما بلغت المجاهدين في سبيل الله أو ما علمت أن فرس المجاهد ليستن في طوله فيكتب له بذلك الحسنات.

یعنی ثوابِ عبادت اور ثوابِ جہاد میں زمین و آسمان کا فرق ہے اگر چہ دونوں اپنی جگہ اہم ہیں۔
(۳) لعب تعبیر ہے قلتِ لذت سے، یعنی رات کو رونے اور آنسو بہانے میں جس طرح ایک مزہ ہے، میدانِ جہاد میں دشمنوں کی کھوپڑیاں اڑانے میں بھی ایک مزہ ہے اور یہ مزہ پہلے والے مزے سے کئی زیادہ ہے، اسی طرح میدانِ جہاد میں پڑھی گئی نماز دوسری جگہوں پر پڑھی گئی نمازوں کے مقابلے میں کئی زیادہ لذت رکھتی ہے۔ اور یہ واقعہ متعدد کتابوں میں مذکور ہے:
(۱) التاریخ لابن عساکر۔ (
۳۲
/
٤٤۹
، ط: مکتبہ دار الفکر)۔
(۲) تفسیر ابن کثیر۔ (
۱
/
٤۸۵
، ط: مکتبہ دار السلام)۔
(۳) سیر اعلام النبلاء۔ (
۸
/
٤۱۲
، ط: مؤسسۃ الرسالہ)۔
(٤) تاریخ الاسلام۔ (
٤
/
۸۸۲
، ط: دار الغرب الاسلامی)۔
(۵) طبقات الشافعیہ للسبکی۔ (
۱
/
۲۸٦
، ط: ہجر للطباعۃ و النشر و التوزیع)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.